محکمہ زکوٰۃ نے سماجی بہبود کی جانب ایک انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے بیوہ سپورٹ کارڈ (Widow Support Card) کے اجرا کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ ایک تاریخی منصوبہ ہے جس کا مقصد معاشی بدحالی کا شکار بیواؤں کو زبردست مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ اس پروگرام پر عمل درآمد اسی ماہ کے آخر میں شروع کر دیا جائے گا، جس سے ہزاروں مستحق گھرانوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی جو اس وقت مہنگائی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
بیوہ سپورٹ کارڈ کے لیے اہلیت کا معیار
بیوہ سپورٹ کارڈ کے لیے اہل ہونے کے لیے درخواست دہندگان کا عمومی طور پر "مستحقِ زکوٰۃ” کے معیار پر پورا اترنا ضروری ہے۔ اگرچہ تفصیلی طریقہ کار پروگرام کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ شائع کیا جائے گا لیکن اہم شرائط درج ذیل ہیں:
ازدواجی حیثیت: درخواست گزار کا بیوہ ہونا ضروری ہے اور اس کے پاس اپنے شوہر کا نادرا سے جاری کردہ درست ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے۔
مالی حیثیت: خاتون کے پاس آمدنی کا کوئی باقاعدہ اور بڑا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے اور وہ شرعی طور پر زکوٰۃ وصول کرنے کی اہل ہو۔
بیوہ سپورٹ کارڈ کے لیے اپلائی کیسے کریں؟
اگرچہ آفیشل ایپلی کیشن پورٹل رواں ماہ کے آخر میں لانچ کیے جانے کا امکان ہے لیکن ممکنہ امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دستاویزات پہلے سے تیار رکھیں۔
لوکل زکوٰۃ کمیٹی سے رابطہ: سب سے پہلے پڑتال عام طور پر محلے یا یونین کونسل کی سطح پر مقامی زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین کے ذریعے کی جائے گی۔
دستاویزات کی تصدیق: اپنا قومی شناختی کارڈ (CNIC)، شوہر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ، اور بچوں کے ب فارم (B-Forms) تیار رکھیں۔
کارڈ کا اجرا: منظوری کے بعد بیوہ سپورٹ کارڈ ممکنہ طور پر کسی پارٹنر بینک (جیسے بینک آف پنجاب یا خیبر بینک، صوبے کے لحاظ سے) کے ذریعے جاری کیا جائے گا تاکہ فنڈز کی ڈیجیٹل منتقلی شفاف طریقے سے ممکن ہو سکے۔
1 لاکھ روپے کی مالی امداد
یہ اقدام ان خواتین کے لیے سماجی تحفظ کا جال (Social Safety Net) بچھانے کے ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہے جنہوں نے اپنے گھر کے کمانے والے کو کھو دیا ہے۔ حکومت کا مقصد ان خواتین کو کم از کم 1 لاکھ روپے کی بنیادی رقم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ چھوٹا کاروبار شروع کر سکیں قرض ادا کر سکیں یا اپنے بچوں کی تعلیم اور صحت کے بنیادی اخراجات پورے کر سکیں۔






