لام فیشن ویک (LFW) کا لاہور میں (31 جنوری تا 3 فروری 2026) اپنے پہلے ایڈیشن کے ساتھ باضابطہ اختتام ہو گیا ہے جو پاکستان کی انڈسٹری میں ایک تاریخی تبدیلی کا نشان ہے۔ پاکستان کے پہلے "Runway-to-E-tail” ایونٹ کے طور پر لام فیشن ویک نے فیشن کو صرف دکھایا نہیں بلکہ اسے ڈیجیٹل بنا دیا جس سے دنیا بھر کے 120 سے زائد ممالک کے ناظرین کو ریمپ پر نظر آنے والے ملبوسات فوری خریدنے کا موقع ملا۔
ابھی دیکھیں، ابھی خریدیں
روایتی فیشن ویکس کے برعکس جہاں صارفین کو کلیکشن اسٹورز پر آنے کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا LFW نے ریئل ٹائم کامرس متعارف کرایا۔ ہائی اسٹریٹ، پریٹ اور لگژری کلیکشنز فوری طور پر LAAM کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب تھیں۔ اس ماڈل نے رن وے کی نمائش اور ریٹیل سیلز کے درمیان موجود خلا کو کامیابی سے پر کیا ہے۔
4 دن کا اسٹائل اور جدت
چار روزہ ایونٹ پاکستان کے متنوع فیشن ایکو سسٹم کا ایک سفر تھا:
پہلا دن (لیگیسی اور آئیکون): لیجنڈز جیسے کہ بنٹو کاظمی اور رضوان بیگ کو خراج تحسین پیش کیا گیا جس کے بعد علی ذیشان اور ٹینا درانی کے شوز ہوئے۔
دوسرا دن (ہائی اسٹریٹ پاور): آغا نور اور دیگر برانڈز کے ساتھ قابل رسائی فیشن پر توجہ دی گئی جس نے ثابت کیا کہ اسٹائل سستا اور معیاری بھی ہو سکتا ہے۔
تیسرا دن (جدت): ہاؤس آف کامیار روکنی اور سائرہ شکیرا نے آرٹ اور فیشن کا امتزاج پیش کیا۔
چوتھا دن (گرینڈ فنالے): ایونٹ کا اختتام ایچ ایس وائے (HSY) کے شاندار شو "مسافر” کے ساتھ ہوا جو سفر کے جذبے کی عکاسی تھا۔ اس کے علاوہ نومی انصاری اور زینب چھوٹانی کی کلیکشنز بھی پیش کی گئیں۔ایچ ایس وائے بطور ایونٹ ڈائریکٹر اور نبیلہ بطور آفیشل اسٹائل پارٹنر اس فیشن ویک کی پروڈکشن کوالٹی بین الاقوامی معیار کے مطابق تھی۔ یہ شو دنیا بھر میں لائیو دکھایا گیا جس سے ثابت ہوا کہ پاکستانی فیشن عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار ہے۔






