اسپین امیگریشن کی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہسپانوی حکومت نے باضابطہ طور پر ایک منصوبہ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت تقریباً 5 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔ یہ تاریخی اقدام ملک کی لیبر فورس کو بہتر بنانے اور غیر ملکی شہریوں کو حقوق دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اس اقدام سے کم از کم 5 لاکھ ایسے افراد کو فائدہ ہوگا جو اس وقت بغیر دستاویزات کے اسپین میں مقیم ہیں۔
اسپین امیگریشن کے نئے اصول اور ضوابط
اسپین کی وزیر برائے شمولیت و مائیگریشن، ایلما سیز (Elma Saiz) نے اسے ملک کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ اسپین امیگریشن کے ان نئے قوانین کے تحت، لیگل اسٹیٹس (Legal Status) ان غیر ملکیوں کو ملے گا جو درج ذیل معیار پر پورا اتریں گے:
ان کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے۔
انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ 31 دسمبر 2025 سے کم از کم پانچ ماہ قبل اسپین میں مقیم تھے۔
کامیاب درخواست دہندگان کو ابتدائی طور پر ایک سال کا رہائشی پرمٹ دیا جائے گا جس میں بعد میں توسیع کی جا سکے گی۔ درخواستوں کا عمل اپریل 2026 میں شروع ہوگا اور جون کے آخر تک جاری رہے گا۔
اسپین امیگریشن اور ملکی معیشت
یورپ کے دیگر ممالک کے برعکس جو اپنی سرحدیں سخت کر رہے ہیں موجودہ ہسپانوی حکومت معاشی استحکام کے لیے اسپین امیگریشن کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل انسانی حقوق اور سماجی ہم آہنگی پر مبنی ہے لیکن یہ معاشی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
اسپین کی معیشت دیگر بڑے یورپی ممالک کی نسبت بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے اور 2025 میں اس کی ترقی کی شرح 3 فیصد کے قریب متوقع ہے۔ بے روزگاری کی شرح 2008 کے بعد پہلی بار 10 فیصد سے نیچے آگئی ہے جس کی ایک بڑی وجہ تارکین وطن کی لیبر ہے۔
Spain plans to give half a million undocumented migrants legal status https://t.co/A8pkZX6GU3
— BBC News (World) (@BBCWorld) January 27, 2026
غیر قانونی تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد
اس منصوبے کی فوری ضرورت تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے پیش آئی۔ تھنک ٹینک فنکاس (Funcas) کے مطابق اسپین میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 2017 میں 1 لاکھ 7 ہزار تھی جو 2025 میں بڑھ کر 8 لاکھ 37 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
ان میں سے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق لاطینی امریکہ کے ممالک جیسے کولمبیا، پیرو اور ہونڈوراس سے ہے۔ اس نئی پالیسی کا مقصد ان افراد کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے۔






