اسلام آباد میں Milo Islamabad Marathon 2026 کا شاندار انعقاد ہوا جہاں 5,000 سے زیادہ رنرز نے حصہ لیا، اور واقعی یہ فٹنس کے لیے بہترین دن تھا۔ اس ایونٹ نے وفاقی دارالحکومت کو کھیل اور صحت کی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ پاکستان سمیت 30 سے زائد ممالک کے کھلاڑیوں نے شرکت کر کے اس میراتھن کو بین الاقوامی رنگ دے دیا۔
یہ میراتھن اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں دوڑ اور برداشت والے کھیلوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
بین الاقوامی کھلاڑیوں نے دارالحکومت کو روشن کر دیا
میری تھن کی دوڑ اسلام آباد کے مشہور روٹ ایف نائن پارک سے ڈی چوک تک منعقد ہوئی۔ مرد اور خواتین رنرز ایک ہی اسٹارٹ لائن پر کھڑے تھے جو برابری اور یکجہتی کا خوبصورت پیغام تھا اور اسی وجہ سے یہ فٹنس کے لیے بہترین دن تھا۔
شرکاء میں پاکستان کے علاوہ چین، برطانیہ، امریکا، اٹلی، جرمنی، جاپان، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، سعودی عرب، کینیا، اسپین، سوئٹزرلینڈ اور کئی دوسرے ممالک کے ایتھلیٹس شامل تھے جس سے اسلام آباد عالمی کھیلوں کے نقشے پر نمایاں ہوا۔
مختلف کیٹیگریز کے فاتحین
میری تھن میں فل میراتھن، ہاف میراتھن، 10 کلومیٹر اور 5 کلومیٹر کے مقابلے منعقد ہوئے۔
فل میراتھن (مرد) میں شیر خان پہلے، اسرار خٹک دوسرے اور سجاد احمد تیسرے نمبر پر رہے۔
فل میراتھن (خواتین) میں قازقستان کی سلاتانت سمپینا اول، اٹلی کی ماریا پیا دوم اور عائشہ مستور بٹ سوم رہیں۔
ہاف میراتھن (مرد) میں محمد سلیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ شہباز مسیح دوسرے اور محمد عرفان تیسرے رہے۔
ہاف میراتھن (خواتین) میں پاکستان کی سعدیہ مقبول اول، امریکا کی الزبتھ ہیسے دوم اور اسپین کی مارٹا پیڈیلا سوم رہیں۔
10 کلومیٹر (مرد) میں محمد ریاض اول، عتیق الرحمن دوم اور عمر زمان سوم رہے۔
10 کلومیٹر (خواتین) میں مہنور افضل اول، عائشہ مریم دوم اور طوبیٰ رانی سوم رہیں۔
5 کلومیٹر (مرد) میں محمد اختر اول، سامی اللہ دوم اور محمد ابراہیم سامی سوم رہے۔
5 کلومیٹر (خواتین) میں ارم شہزادی اول، بسمہ بتول دوم اور جرمنی کی سڈنی سوم رہیں۔
ان کامیابیوں نے ثابت کر دیا کہ واقعی یہ فٹنس کے لیے بہترین دن تھا۔
منتظمین اور رضاکاروں کی خدمات
منتظمین نے رنرز، رضاکاروں اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسلام آباد میراتھن اب ایک بڑا اسپورٹس ایونٹ بنتا جا رہا ہے جو صحت، شمولیت اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے۔
اسلام آباد رن ود اس (IRU) کو دارالحکومت میں رننگ کلچر کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے چیف ایگزیکٹو قاسم ناز نے 2016 میں یہ سلسلہ شروع کیا تھا جو آج ایک بڑے میراتھن میں بدل چکا ہے اور اس بار بھی یہ فٹنس کے لیے بہترین دن تھا۔






