امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جنوری 2026 کو ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط کیے۔ یہ اقدام غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا لیکن تقریب کے بعد اس نے تنازعات اور سوالات بھی پیدا کر دیے۔
بورڈ میں شامل ممالک میں متحدہ عرب امارات، ہنگری اور پاکستان شامل تھے جو اس منصوبے کے لیے اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ تاہم بڑی یورپی طاقتیں جیسے کہ کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی تقریب میں غیر حاضر رہیں۔ روس کو باضابطہ طور پر دعوت دی گئی تھی لیکن وہ تقریب میں موجود نہیں تھا۔ اس غیر متوازن شمولیت نے سوالات پیدا کیے کہ آیا یہ بورڈ واقعی ایک سفارتی اقدام ہے یا سیاسی اشارہ۔
غزہ بورڈ آف پیس میں کون شامل ہوا؟
تقریب میں شامل اہم ممالک اور رہنماؤں میں شامل ہیں:
متحدہ عرب امارات (خاص نمائندہ: خلدون خلیفہ المبارک)
پاکستان (وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف)
ہنگری (وزیراعظم وکٹر اوربان)
دیگر ممالک: بحرین، مراکش، ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، بلغاریہ، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، کوسوو، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب، ترکی، ازبکستان، منگولیا
غزہ بورڈ آف پیس میں کون غیر حاضر رہا؟
کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، سویڈن، سلووینیا، ناروے، بیلجیم
سپین اور برطانیہ
روس (دعوت دی گئی لیکن نمائندہ نہیں آیا)
یہ غیر حاضری ظاہر کرتی ہے کہ بورڈ میں شمولیت کے حوالے سے عالمی اختلافات ابھی بھی برقرار ہیں
غزہ بورڈ آف پیس ایگزیکٹو کے ارکان
بورڈ کے کام کو منظم کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو بورڈ قائم کیا گیا جس کے ارکان:
مارکو روبیو – امریکی وزیر خارجہ
سٹیو وٹکوف – امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ
جارڈ کوشنر – ٹرمپ کے داماد
سر ٹونی بلیئر – سابق برطانوی وزیراعظم
مارک روون – سی ای او، اپولو
اجے بانگا – صدر، ورلڈ بینک
رابرٹ گیبریل – سکیورٹی ایڈوائزر
بین الاقوامی ردعمل اور تنقید
ٹرمپ نے تقریب میں اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ واقعی ختم ہونے والی ہے اور سپین کو دفاعی بجٹ کی کمی پر تنقید کا نشانہ بنایا کہا وہ مفت کا فائدہ چاہتے ہیں۔
فلسطینی وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے کہا کہ بورڈ کے ساتھ تعاون ضروری ہے لیکن مقامی ادارے بھی تعمیر نو کے عمل میں فعال رہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بورڈ اتحاد کا پیغام دینے کے بجائے عالمی اختلافات کی عکاسی بھی کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ممالک تیزی سے شراکت کر رہے ہیں جبکہ بڑی طاقتیں زیادہ محتاط ہیں۔






