پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع اپنے تحقیقی کنویں بیلی ٹانگ-1 سے گیس دریافت کر لی ہے۔ یہ دریافت لاک ہارٹ فارمیشن میں کی گئی ہے جو علاقے میں توانائی کے نئے امکانات پیدا کرے گی۔ اس پیش رفت کی تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔
کوہاٹ میں پی پی ایل کی گیس دریافت میں ٹی اے ایل جوائنٹ وینچر کی شراکت
کوہاٹ میں پی پی ایل کی گیس دریافت ٹی اے ایل جوائنٹ وینچر کے ذریعے ممکن ہوئی ہے جس میں مختلف کمپنیاں شامل ہیں۔ اس منصوبے میں ایم او ایل پاکستان بطور آپریٹر 10 فیصد حصہ رکھتی ہے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے پاس 30 فیصد، پی پی ایل کے پاس 30 فیصد، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ کے پاس 25 فیصد جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کا حصہ 5 فیصد ہے۔
کوہاٹ میں پی پی ایل کی گیس دریافت میں کنویں کی کھدائی کی تفصیل
پی پی ایل کے مطابق بیلی ٹانگ-1 کنویں کی کھدائی 10 اگست 2025 کو شروع کی گئی تھی اور کنواں کامیابی سے 4,011 میٹر عمودی گہرائی تک پہنچایا گیا۔ اس کے بعد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لاگنگ اور ٹیسٹنگ کی گئی جس سے گیس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
کوہاٹ میں پی پی ایل کی گیس دریافت میں پیداوار کی صلاحیت
نوٹس کے مطابق لاگنگ وائل ڈرلنگ اور وائر لائن ڈیٹا کی بنیاد پر لاک ہارٹ فارمیشن کو کامیابی سے ٹیسٹ کیا گیا۔ ٹیسٹ کے دوران کنویں سے یومیہ تقریباً 1.37 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہوئی جبکہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 254 پی ایس آئی ریکارڈ کیا گیا۔
کوہاٹ میں پی پی ایل کی گیس دریافت کے ملکی فوائد
کمپنی کا کہنا ہے کہ کوہاٹ میں پی پی ایل کی گیس دریافت سے ٹی اے ایل بلاک میں مزید تلاش کا خطرہ کم ہو گیا ہے اور اب نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس دریافت سے ملک میں گیس کی قلت کم کرنے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد ملے گی۔






