ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ایسی ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں ایرانی خواتین اپنی مہنگی کاسمیٹکس مصنوعات کو توڑتی، پھینکتی اور جلاتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ غصہ Huda Beauty Boycott (ہدا بیوٹی بائیکاٹ) مہم کا نتیجہ ہے جس کی وجہ برانڈ کی بانی ہدا قطان (Huda Kattan) کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیاں ہیں۔
ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں جس کی انہوں نے جذباتی انداز میں تردید کی ہے۔ ہدا کا کہنا ہے کہ ان کا موقف غیر ملکی مداخلت کے خلاف ہے نہ کہ وہاں کی حکومت کے حق میں۔
ہدا بیوٹی بائیکاٹ کی وجہ کیا بنی؟
یہ اسکینڈل اس وقت شروع ہوا جب ہدا قطان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک ویڈیو ری پوسٹ کی۔ اس ویڈیو میں تہران میں حکومت کے حامی مظاہرین کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کی تصاویر جلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
بہت سے ایرانیوں نے اس ری پوسٹ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تشہیر اور حمایت سمجھا۔ مخالفین نے دعویٰ کیا کہ ہدا حکومتی پروپیگنڈا دہرا رہی ہیں اور انہوں نے ملک میں حکومت مخالف مظاہروں پر ہونے والے مہلک کریک ڈاؤن کا ذکر تک نہیں کیا۔
ہدا قطان کا ردعمل
شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد ہدا نے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ویڈیو پیغامات کا ایک سلسلہ جاری کیا۔ انہوں نے کہا "میں واضح طور پر حکومت کی حامی نہیں ہوں لیکن میں وہاں کے نظام کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی۔ میں نے بہت ملی جلی باتیں سنی ہیں۔”
ہدا نے ایران کی موجودہ صورتحال کا موازنہ اپنے آبائی ملک عراق سے کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کے خیالات 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے تباہ کن نتائج سے متاثر ہیں۔
- حکومت کی تبدیلی پر: "میں یہاں یہ نہیں کہوں گی کہ ‘ہاں، چلو حکومت بدل دیتے ہیں’… میرے ملک میں ایسا ہو چکا ہے اور اس کا دکھ آج بھی موجود ہے۔”
- امریکی مداخلت پر: انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کے لیے کبھی کچھ اچھا نہیں کیا اور بیرونی مداخلت اکثر ممالک کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔
فلسطین اور ایران میں فرق
ہدا فلسطینیوں کی مضبوط حامی ہیں لیکن انہوں نے غزہ کی جنگ اور ایران کی صورتحال میں فرق کیا۔ انہوں نے ایران کے ہنگاموں کو "اندرونی مسئلہ” قرار دیا جبکہ فلسطین کے کیس کو وہ ایک قوم کی طرف سے دوسری قوم پر ظلم سمجھتی ہیں۔
اس فرق پر دیگر کارکنوں جیسے کہ بااثر تخلیق کار یگانہ (Yeganeh) نے شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سامراج مخالف (Anti-imperialist) ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایرانی حکومت کی طرف سے اپنے ہی عوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر دیں۔
ہدا بیوٹی کا بائیکاٹ: عوامی ردعمل
Huda Beauty Boycott نے انٹرنیٹ صارفین کو تقسیم کر دیا ہے۔
- ناقدین: بہت سے لوگ Sephora جیسے ریٹیلرز سے برانڈ کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور احتجاجاً اپنی مہنگی ہدا بیوٹی پیلیٹس (Palettes) کو تباہ کرنے کی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔
حامی: دوسروں نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بطور عراقی نژاد امریکی، انہیں امریکی مداخلت سے محتاط رہنے کا جواز حاصل ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ عجیب بات ہے کہ لوگ امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں ان کے خدشات کی بنا پر ان کا بائیکاٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”






