پنجاب میں رئیل اسٹیٹ کی خرید و فروخت اور تصدیق کا عمل اب نمایاں طور پر زیادہ محفوظ ہونے والا ہے۔ جعلی دستاویزات اور زمین کے تنازعات کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پنجاب نے باضابطہ طور پرگرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ متعارف کرا دیا ہے۔
پراپرٹی کی تصدیق کا یہ نیا آن لائن سسٹم شہریوں کو رئیل اسٹیٹ فراڈ سے بچانے اور صوبے بھر میں زمین کے لین دین کے مجموعی عمل کو ہموار اور آسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ کیا ہے اور عوام کو اس سے کیسے فائدہ ہوگا اس کا تفصیلی جائزہ ذیل میں دیا گیا ہے۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کیا ہے؟
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک نئی شروع کی گئی مکمل طور پر ڈیجیٹل ویریفکیشن (تصدیقی) سروس ہے۔ یہ خریداروں، فروخت کنندگان اور جائیداد کے مالکان کو زمین کے کسی بھی ٹکڑے کی قانونی حیثیت اور ملکیت کی تفصیلات آن لائن چیک کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس شاندار اور انقلابی اقدام کی افتتاحی تقریب کی صدارت ڈپٹی کمشنر عائشہ رضوان نے کی۔ اس میں اہم صوبائی حکام نے شرکت کی جن میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد احمر علی، اسسٹنٹ کمشنر اشفاق رسول، لینڈ ریکارڈ سینٹر انچارج محمد آصف اور جی آئی ایس (GIS) مینیجر لقمان حیدر شامل تھے۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اہم فوائد
حکومتِ پنجاب کے مطابق یہ اقدام زمین کے ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے بنیادی فوائد میں درج ذیل شامل ہیں:
فراڈ کی روک تھام: ایک باضابطہ آن لائن تصدیقی پورٹل فراہم کر کے یہ سروس عوام کو جعلی پراپرٹی دستاویزات، غیر قانونی قبضوں اور دھوکہ باز فروخت کنندگان کے خلاف بھرپور تحفظ فراہم کرتی ہے۔
تنازعات میں کمی: واضح اور حکومتی سرپرستی میں موجود ڈیجیٹل ریکارڈ مقامی عدالتوں میں زمین کے طویل اور مہنگے تنازعات کو نمایاں طور پر کم کر دے گا۔
وقت اور پیسوں کی بچت: شہریوں کو اب پٹوار خانے یا لینڈ ریکارڈ سینٹرز کے بار بار چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ آن لائن سسٹم روایتی پراپرٹی ویریفکیشن سے جڑے وقت، پریشانی اور اخراجات کو کم کرتا ہے۔
شفافیت میں اضافہ: ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے سے یہ یقینی بنتا ہے کہ جائیداد کا تمام لین دین شفاف ہے اور عوام اور حکام دونوں کے لیے اسے باآسانی ٹریس (trace) کیا جا سکتا ہے۔
عوامی فلاح و بہبود پر سخت انتظامی کارروائی
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ شروع کرنے کے علاوہ مقامی انتظامیہ عوامی فلاح و بہبود کے دیگر منصوبوں پر بھی سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ اس سرٹیفکیٹ کے لانچ کے بعد ڈی سی عائشہ رضوان نے مقامی سبزی منڈی کا اچانک دورہ کیا۔
انہوں نے نیلامی کے عمل طلب و رسد کی صورتحال اور ہول سیل قیمتوں کا جائزہ لیا۔ ذخیرہ اندوزوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ سرکاری ریٹ لسٹ کو نمایاں جگہ پر آویزاں کیا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ خوراک کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پنجاب کا گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کیا ہے؟
یہ پنجاب حکومت کی طرف سے متعارف کرایا گیا ایک آن لائن پراپرٹی ویریفکیشن سسٹم ہے جس کا مقصد شہریوں کو زمین کی ملکیت کی تصدیق کرنے اور خود کو رئیل اسٹیٹ فراڈ سے بچانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ خریداروں کی کیسے مدد کرتا ہے؟
یہ کسی بھی پراپرٹی کی قانونی حیثیت کا شفاف، ڈیجیٹل اور باآسانی دستیاب ریکارڈ فراہم کر کے خریداروں کو جعلی دستاویزات اور زمین کے تنازعات سے بچاتا ہے۔
پنجاب اپنے لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیوں کر رہا ہے؟
لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنے کا مقصد شفافیت کو بڑھانا کرپشن کا خاتمہ کرنا اور صوبے میں جائیداد کی خرید و فروخت میں لگنے والے وقت اور اخراجات کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔






