پاکستان کے خلائی عزائم کی تاریخ میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پرسپارکو (SUPARCO) نے چائنا اسپیس اسٹیشن مشن کے لیے دو پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب مکمل کر لیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے ہفتے کے روز باضابطہ اعلان کیا کہ ملک کے ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام کے تحت خلا بازوں کے انتخاب کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔
انتخاب کا عمل اور تربیت
ان دو کامیاب امیدواروں کو ایک سخت انتخابی عمل کے بعد شارٹ لسٹ کیا گیا۔ پاکستان میں ابتدائی اسکریننگ کے بعد ان امیدواروں کے چین کے ایسٹروناٹ سینٹر (ACC) میں جامع میڈیکل، نفسیاتی اور اہلیت کے ٹیسٹ (Aptitude tests) لیے گئے۔ یہ ٹیسٹ انسانی خلائی پرواز کے بین الاقوامی معیارات کے عین مطابق منعقد کیے گئے۔
منتخب خلا باز اب ACC میں چھ ماہ کی جدید تربیت حاصل کریں گے۔
تربیت مکمل ہونے کے بعد چائنا اسپیس اسٹیشن پر جانے کے لیے ایک حتمی امیدوار کا انتخاب کیا جائے گا۔
یہ مشن عارضی طور پر اکتوبر یا نومبر 2026 میں شیڈول ہے۔
اسٹریٹجک شراکت داری
یہ پیش رفت فروری 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے خلائی تعاون کے معاہدے کا براہ راست نتیجہ ہے۔
اس تعاون کے تحت پاکستان چین کے خلا باز پروگرام میں باضابطہ طور پر شامل ہونے والا پہلا غیر ملکی پارٹنر بن گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک اور تکنیکی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
مستقبل کا مون مشن
اسپیس اسٹیشن کے علاوہ سپارکو حکام نے ایک اور بڑے روڈ میپ کی نشاندہی بھی کی ہے۔ پاکستان 2026 کے آخر میں چاند سے متعلق ایک مشن میں بھی شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے وہ خلائی تحقیق میں اپنے قدم جمانے کے لیے چینی تعاون کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔






