پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ پہلے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرنے کے بعد، پی ٹی آئی نے اب کہا ہے کہ وہ مذاکرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر رہے بلکہ انہیں وقتی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
مذاکرات کا پس منظر
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات دسمبر کے آخر میں شروع ہوئے تھے، جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی۔ دونوں فریقین نے تین اجلاسوں میں شرکت کی، لیکن کسی بھی بڑے معاملے پر پیش رفت نہیں ہو سکی۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات میں دو اہم مطالبات رکھے تھے:
- 9 مئی کے واقعات اور نومبر 2024 کے اسلام آباد احتجاج کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کا قیام
- سیاسی قیدیوں کی رہائی
پی ٹی آئی کا سخت مؤقف اور حکومتی ردعمل
گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی چیئرمین نے اعلان کیا تھا کہ اگر سات دن کے اندر عدالتی کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا تو وہ مزید مذاکرات نہیں کریں گے۔ تاہم، اب پارٹی رہنما بیرسٹر گوہر نے عندیہ دیا ہے کہ اگر حکومت عدالتی کمیشن کے قیام کا اعلان کرتی ہے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال پر حکومت کی جانب سے ردعمل بھی آیا، جہاں مذاکراتی کمیٹی کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے رویے کو غیر یقینی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایک دن کچھ کہا جاتا ہے اور اگلے دن کوئی اور اعلان آجاتا ہے، مذاکرات بچوں کا کھیل نہیں، سنجیدگی ضروری ہے۔”
28 جنوری کا اجلاس اور پی ٹی آئی کا عدم شرکت کا اعلان
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان چوتھے مذاکراتی اجلاس کے لیے 28 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ تاہم، بیرسٹر گوہر نے واضح کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "اگر ایک فریق اچانک مذاکرات ختم کر دے تو ہم کس سے بات کریں؟ دیواروں سے؟” انہوں نے مزید کہا کہ بیرسٹر گوہر مذاکراتی کمیٹی کے رکن بھی نہیں ہیں، اس لیے انہیں اپنے رہنماؤں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
حکومتی مؤقف: مذاکرات بند ہونے کے ذمہ دار ہم نہیں
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثناءاللہ نے واضح کیا کہ حکومت مذاکرات جاری رکھنا چاہتی ہے لیکن پی ٹی آئی کی طرف سے بار بار موقف تبدیل کرنے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "سیاسی معاملات پر مذاکرات ہمیشہ سیاسی قوتوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ جن کی طرف پی ٹی آئی دیکھ رہی ہے، وہ کسی سیاسی ایجنڈے پر بات چیت نہیں کریں گے، اور یہ بہت پہلے واضح کر دیا گیا تھا۔”
کیا مذاکرات کا کوئی حل نکل سکتا ہے؟
اس وقت صورت حال انتہائی غیر یقینی ہے۔ ایک طرف حکومت کا اصرار ہے کہ مذاکرات جاری رہنے چاہئیں، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کا مؤقف سخت ہوتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت عدالتی کمیشن کے قیام کا اعلان کر دیتی ہے تو امکان ہے کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آ جائے، لیکن اس وقت تک فریقین کے درمیان عدم اعتماد کی فضا برقرار رہے گی۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اور اگر کوئی درمیانی راستہ نہ نکالا گیا تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔