وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اتوار کے روز وزیراعلیٰ گرین ٹریکٹر پروگرام (CM Green Tractor Program) کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے جو صوبائی حکومت کی جانب سے کھیتی باڑی کو جدید بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس تقریب کے دوران کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے ٹریکٹروں کی تقسیم کے شفاف عمل کا آغاز کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ذاتی طور پر کئی کامیاب کسانوں کو ٹیلیفون کر کے مبارکباد دی جن میں بہاولپور سے تعلق رکھنے والے کسان حمزہ لیاقت بھی شامل تھے۔ مریم نواز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت کا بنیادی مقصد زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانا اور پنجاب بھر کے کسانوں کو مسلسل تعاون فراہم کرنا ہے۔
دی گرینڈ ڈسٹری بیوشن: چھوٹے کسانوں کی بااختیاری
یہ پروگرام خاص طور پر ان چھوٹے کسانوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو زرعی مشینری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے اسکیم میں کسانوں کی گہری دلچسپی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پانچ ایکڑ تک زمین رکھنے والے 4 لاکھ 27 ہزار کسانوں نے اس مخصوص مرحلے کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔ یہ اقدام گورننس کے پیمانے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جہاں گزشتہ 25 سالوں میں صرف 20 ہزار ٹریکٹر تقسیم کیے گئے تھے وہیں موجودہ انتظامیہ نے صرف گزشتہ دو سالوں میں 21 ہزار ٹریکٹر تقسیم کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس تیزی کا مقصد صوبے میں مشینری کی کمی کو دور کرنا ہے کیونکہ پنجاب میں فی الوقت فی 10 ہزار ایکڑ صرف 140 ٹریکٹر دستیاب ہیں جو بین الاقوامی زرعی معیار سے بہت کم ہیں۔
فیز III کی اہم جھلکیاں اور پروگرام کی پیشرفت
اس تیسرے مرحلے میں حکومت نے 10 ہزار ٹریکٹر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جن کی طاقت 50 سے 65 ہارس پاور کے درمیان ہوگی۔ یہ مشینری فارم کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور چھوٹے زمینداروں پر دستی مشقت کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ حکام نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مشینری کی آسمان چھوتی قیمتوں نے درمیانے اور چھوٹے کسانوں کے لیے مارکیٹ ریٹ پر سامان خریدنا تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔ پہلے دو مراحل کی تکمیل اور اب تک 21 ہزار یونٹس کی کامیاب فراہمی کے بعد، یہ پروگرام صوبائی زرعی ترقی کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔
پنجاب گرین ٹریکٹر اسکیم فیز III: اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فوائد صرف مستحق امیدواروں تک پہنچیں حکومت نے اہلیت کے سخت مگر آسان معیار مقرر کیے ہیں۔ سبسڈی کے اہل ہونے کے لیے درخواست گزار کا پنجاب کا رہائشی ہونا اور زیادہ سے زیادہ 5 ایکڑ زمین کا مالک ہونا ضروری ہے۔ درخواست کا عمل بنیادی طور پر محکمہ زراعت پنجاب کے آفیشل آن لائن پورٹل کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے، جہاں کسان اپنا شناختی کارڈ اور زمین کی ملکیت کی تصدیق (فرد) جمع کراتے ہیں۔ حتمی انتخاب کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جاتا ہے تاکہ مکمل شفافیت برقرار رہے اور ہر درخواست گزار کو اپنے کھیتوں کے لیے ہائی ٹیک مشینری حاصل کرنے کا برابر موقع مل سکے۔
تیسرے مرحلے (Phase III) میں کتنے ٹریکٹر تقسیم کیے جا رہے ہیں؟
پروگرام کے موجودہ تیسرے مرحلے میں کسانوں کے لیے کل 10 ہزار ٹریکٹر مختص کیے گئے ہیں۔
فراہم کیے جانے والے ٹریکٹروں کی ہارس پاور کیا ہے؟
اس اسکیم کے تحت 50 سے 65 ہارس پاور کے ٹریکٹر فراہم کیے جا رہے ہیں جو خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارموں کی ضروریات کے مطابق ہیں۔
کامیاب کسانوں کا انتخاب کس طرح کیا جاتا ہے؟
حکومت شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے اہل درخواست گزاروں کے پول سے فاتحین کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے کرتی ہے۔






