حکومتِ پنجاب نے معاشرے کے انتہائی مستحق اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے ایک بڑے سماجی فلاحی اقدام کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ کے نام سے شروع کیے گئے اس نئے پروگرام کا مقصد صوبہ بھر میں بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کو براہ راست مالی امداد فراہم کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے باقاعدہ منظور شدہ رحمت کارڈ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے کہ مستحق افراد مزید بے یار و مددگار نہ رہیں اور انہیں صوبے کے وسائل تک مساوی رسائی حاصل ہو۔
پنجاب رحمت کارڈ اسکیم اس کے تحت ملنے والے مالی فوائد اور اس کے آغاز کی تاریخ کے حوالے سے مکمل تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں۔
پنجاب رحمت کارڈ کیا ہے؟
پنجاب رحمت کارڈ خاص طور پر بیواؤں اور یتیموں کے لیے بنایا گیا حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والا ایک فلاحی پروگرام ہے۔ عشر و زکوٰۃ کے معاون خصوصی راشد نصراللہ کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو کارڈ کے اجراء کی تیاریاں حتمی مراحل تک پہنچانے کی ہدایت کی۔
کرپشن کے خاتمے اور رقوم کی حقداروں تک منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ایک شفاف ڈیجیٹل نظام وضع کیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ مالی امداد بغیر کسی تاخیر یا درمیانی واسطے کے براہ راست اہل افراد تک پہنچے۔
CM Punjab Rehmat Card!
— PMLN (@pmln_org) March 5, 2026
A new chapter of welfare for widows and orphans begins with the initiative by CM Punjab Maryam Nawaz. pic.twitter.com/LqBE5CVWmo
پنجاب رحمت کارڈ کی مالی امداد
رحمت کارڈ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو ان کے بنیادی گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مدد کے لیے خاطر خواہ مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ منظور شدہ رقوم کی تفصیل درج ذیل ہے:
بیوہ خواتین: مستحق بیوہ خواتین کو 100,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
یتیم بچے: پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہر یتیم بچے کو 25,000 روپے دیے جائیں گے۔
رحمت کارڈ اسکیم کا آغاز کب ہوگا؟
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ پروجیکٹ کا باقاعدہ آغاز عید کے فوراً بعد کر دیا جائے گا۔
صوبائی حکومت اس وقت ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم اور مستحقین کے ڈیٹا بیس کو حتمی شکل دے رہی ہے تاکہ اسکیم کے لانچ ہوتے ہی رقوم کی شفاف اور بلاتعطل تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ اس اسکیم کے ذریعے اٹھائے گئے عملی اقدامات سے بیواؤں اور یتیموں کی فلاح و بہبود میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "ہر شہری کا پنجاب کے وسائل پر مساوی حق ہے” جو کہ سب کی شمولیت پر مبنی سماجی فلاحی اقدامات کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پنجاب رحمت کارڈ کے لیے کون اہل ہے؟
یہ اسکیم خاص طور پر پنجاب میں مقیم مستحق بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کے لیے بنائی گئی ہے۔
پنجاب رحمت کارڈ کے ذریعے کتنی رقم فراہم کی جائے گی؟
مستحق بیوہ خواتین کو 100,000 روپے ملیں گے جبکہ ہر یتیم بچہ 25,000 روپے وصول کرنے کا حقدار ہوگا۔
حکومت کس طرح یقینی بنائے گی کہ فنڈز درست لوگوں تک پہنچیں؟
حکومتِ پنجاب نے ایک انتہائی شفاف ڈیجیٹل نظام تیار کیا ہے جو تصدیق شدہ مستحقین کو براہ راست مالی امداد منتقل کرے گا جس سے فراڈ اور تاخیر سے بچا جا سکے گا۔
پنجاب رحمت کارڈ کے لیے رجسٹریشن کب شروع ہوگی؟
اسکیم کا باقاعدہ آغاز اور رجسٹریشن یا تقسیم کا عمل عید 2026 کے فوراً بعد شروع ہونے کا شیڈول طے کیا گیا ہے۔






