ان لوگوں کا انتظار بالآخر ختم ہوا جو ایک ماحول دوست اور زیادہ منافع بخش ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں قدم رکھنا چاہتے ہیں! وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکستان کی پہلی ای-ٹیکسی (e-Taxi) اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ شاندار اقدام صوبائی حکومت کے ویژن 2030 فریم ورک کے عین مطابق ہے اور مقامی ٹرانسپورٹ کے منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔
اگر آپ کمرشل گاڑی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ اسکیم ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے ابتدائی طور پر انتہائی رعایتی نرخوں پر 1,100 الیکٹرک ٹیکسیاں متعارف کرائی ہیں۔ اس پروجیکٹ کو متعارف کروا کرحکومت کا مقصد پنجاب میں ایک مکمل اور پائیدار ای-موبیلٹی (e-mobility) ایکو سسٹم بنانا ہے۔ یہ تبدیلی قدرتی طور پر ایندھن کے بھاری اخراجات کو کم کرنے، ماحولیات کے لیے نقصان دہ دھوئیں کے اخراج کو گھٹانے اور صوبے بھر کے ڈرائیوروں کو آمدنی کے انتہائی قابل اعتماد مواقع فراہم کرنے میں مدد دے گی۔
پنجاب ای-ٹیکسی اسکیم کا رول آؤٹ پلان
فی الحال اس اسکیم کے پائلٹ مرحلے کا باقاعدہ آغاز لاہور سے ہو چکا ہے۔ لانچنگ کی تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ یہ نئی متعارف کرائی گئی ای-ٹیکسیاں 48 گھنٹوں کے اندر شہر کی سڑکوں پر چلنا شروع ہو جائیں گی۔
اگر آپ دارالحکومت سے باہر ہیں تو پریشان نہ ہوں؛ آنے والے ہفتوں میں پنجاب کے دیگر حصوں میں بھی اسے بتدریج متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔ الیکٹرک اور ہائبرڈ بسوں کے ساتھ ساتھ حکومت کا ارادہ ہے کہ اسی طرح کی گرین ٹرانسپورٹ سروسز کو صوبے کی تمام 148 تحصیلوں تک بڑھایا جائے۔
پنجاب ای-ٹیکسی اسکیم کی سبسڈی کی تفصیلات
اس اسکیم کو عام لوگوں کے لیے انتہائی سستی اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے حکومتِ پنجاب 4 ارب روپے تک کی شاندار سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔
مالی ریلیف اور اہلیت کا مکمل طریقہ کار کچھ یوں ہے:
عام سبسڈی: مطلوبہ ڈاؤن پیمنٹ میں سے،حکومت 15 فیصد خود ادا کرے گی۔ یہ مالی تعاون عام درخواست دہندگان کو تقریباً 690,000 روپے میں ای-ٹیکسی حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔
خواتین کا کوٹہ: اس اسکیم کی ایک بڑی اور نمایاں خصوصیت شمولیت (inclusion) پر اس کی بھرپور توجہ ہے حکومت نے باضابطہ طور پر 30 فیصد ای-ٹیکسیاں صرف اور صرف خواتین کے لیے مختص کی ہیں۔
خواتین کے لیے خصوصی ریلیف: خواتین درخواست دہندگان کے لیے مالی ریلیف نمایاں طور پر زیادہ ہے جس میں حکومت مطلوبہ ڈاؤن پیمنٹ کا 60 فیصد خود برداشت کرے گی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اسے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خواتین کی شمولیت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا ان کی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب ای-ٹیکسی اسکیم کا آغاز کہاں سے ہو رہا ہے؟
اس کے پائلٹ مرحلے کا باقاعدہ آغاز لاہور سے ہوا ہے، جہاں 48 گھنٹوں کے اندر 1,100 الیکٹرک ٹیکسیاں سڑکوں پر آ جائیں گی، اور آنے والے ہفتوں میں یہ سروس دیگر اضلاع تک بھی پھیل جائے گی۔
پنجاب ای-ٹیکسی اسکیم کی سبسڈی کے لیے ڈاؤن پیمنٹ کتنی ہے؟
حکومت عام درخواست دہندگان کے لیے ڈاؤن پیمنٹ کا 15 فیصد ادا کر رہی ہے، جس سے وہ تقریباً 690,000 روپے میں ٹیکسی حاصل کر سکیں گے۔ تاہم خواتین درخواست دہندگان کو ان کی ڈاؤن پیمنٹ پر 60 فیصد کی بھاری سبسڈی ملے گی۔
کیا پنجاب ای-ٹیکسی اسکیم میں خواتین کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ ہے؟
جی ہاں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خواتین کی شمولیت کی بھرپور حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے 30 فیصد ای-ٹیکسیاں خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص کی ہیں۔






