تعلیمی نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑے قدم کے طور پر حکومتِ پنجاب نے بورڈ کے پریکٹیکل امتحانات کی جانچ پڑتال کے عمل کو باضابطہ طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ نئے اور اپڈیٹڈ پریکٹیکل امتحانات کی مارکنگ کے قواعد کے تحت امتحانی مراکز پر موجود ممتحن (examiners) کو اب طلباء کو پورے نمبر دینے کا اختیار نہیں ہوگا۔
پنجاب بھر کے تمام تعلیمی بورڈز میں اب ایک سینٹرلائزڈ مارکنگ سسٹم متعارف کروایا جائے گا۔ یہاں نئی پالیسیوں اور مستقبل میں طلباء پر ان کے اثرات کی مکمل تفصیل دی گئی ہے۔
پریکٹیکل امتحانات کی مارکنگ کے قواعد کیوں اپڈیٹ کیے گئے؟
اس سے قبل سینٹر پر موجود ممتحن کا پریکٹیکل کے نمبروں پر مکمل کنٹرول ہوتا تھا جس کی وجہ سے اکثر سفارش، جانبداری اور پسند ناپسند کی شکایات سامنے آتی تھیں۔
اس رجحان کو روکنے کے لیے ٹاسک فورس کمیٹی برائے بورڈز کے چیئرمین مزمل محمود نے واضح کیا کہ اب محض رسمی یا زبانی پریکٹیکل قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ ان پریکٹیکل امتحانات کی مارکنگ کے قواعد کو اپڈیٹ کرنے کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ نمبر خالصتاً میرٹ پر دیے جائیں تاکہ امتحانی مراکز میں کسی بھی قسم کے بیرونی اثر و رسوخ یا جانبداری کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔
پنجاب کا نیا بورڈ مارکنگ سسٹم
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پریکٹیکل امتحانات کے لیے مختص 30 نمبروں کو اب سختی سے دو جانچنے والی اتھارٹیز کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا۔
پریکٹیکل امتحانات کی تحریری جوابی کاپیاں اب سینٹرز پر چیک نہیں کی جائیں گی۔ اس کے بجائے انہیں براہ راست متعلقہ تعلیمی بورڈز کو بھیج دیا جائے گا جہاں ایک محفوظ اور سینٹرلائزڈ مارکنگ کے عمل کے ذریعے ان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
مراکز پر موجود ممتحن کے اختیارات اب نمایاں طور پر محدود کر دیے گئے ہیں۔ انہیں صرف طالب علم کے وائیوا (viva/زبانی سوالات) اور پریکٹیکل کے دوران اصل کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دینے کی اجازت ہوگی۔
| جانچ کا حصہ | کون چیک کرے گا؟ | نمبروں کی تقسیم |
| تحریری جوابی کاپی | متعلقہ تعلیمی بورڈ | سینٹرلائزڈ مارکنگ |
| وائیوا اور عملی کارکردگی | سینٹر پر موجود ممتحن | محدود اختیار |
| کل نمبر | مشترکہ | 30 نمبر |
پنجاب میں نئے پریکٹیکل امتحانات کی مارکنگ کے قواعد کیا ہیں؟
نئے قواعد کے تحت سینٹر پر موجود ممتحن اب پورے نمبر نہیں دے سکتے۔ پریکٹیکل کا تحریری حصہ ایجوکیشن بورڈز کے ذریعے سینٹرلائزڈ طریقے سے چیک کیا جائے گا جبکہ سینٹر کے ممتحن صرف وائیوا اور عملی کارکردگی پر نمبر دیں گے۔
کیا سینٹر کے ممتحن پریکٹیکل کی تحریری کاپیاں چیک کریں گے؟
نہیں، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے تحریری جوابی کاپیاں سینٹرلائزڈ چیکنگ کے لیے براہ راست متعلقہ بورڈز کو بھیجی جائیں گی۔
پنجاب میں نئے پریکٹیکل امتحانات کی مارکنگ کے قواعد سے کون سے مضامین متاثر ہوں گے؟
مارکنگ کے یہ نئے قواعد پنجاب کے تمام ایجوکیشن بورڈز میں فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور کمپیوٹر اسٹڈیز کے پریکٹیکل امتحانات پر لاگو ہوں گے۔






