ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے منگل کو جاری کردہ پاکستان کرپشن انڈیکس 2025 (Pakistan Corruption Index 2025) کے اعدادوشمار ملے جلے نتائج پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ ملک نے اپنے سکور میں معمولی بہتری دکھائی ہے لیکن بدقسمتی سے عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی پوزیشن نیچے گر گئی ہے۔
سکور اور درجہ بندی میں فرق
رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن انڈیکس 2025 میں پاکستان کا سکور بڑھ کر 28/100 ہو گیا ہے جو کہ ایک سال قبل 27/100 تھا۔ یہ انڈیکس پبلک سیکٹر میں کرپشن کی سطح کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جہاں 0 کا مطلب "انتہائی کرپٹ” اور 100 کا مطلب "انتہائی شفاف” ہے۔
اگرچہ یہ ایک پوائنٹ کی بہتری تھی لیکن عالمی درجہ بندی میں ملک کی صورتحال کمزور ہوئی ہے۔ پاکستان 182 ممالک اور خطوں میں 136ویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ 2024 میں یہ 180 ممالک میں 135ویں نمبر پر تھا۔
🔵 The Corruption Perceptions Index 2025 is out! We analysed 182 countries to see how they scored in the fight against corruption.
— Transparency International (@anticorruption) February 10, 2026
Check out your country’s score! ⬇️#CPI2025 https://t.co/rSatNXseTh
حکومتی اصلاحات اور آئی ایم ایف کی سفارشات
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے حکومتی نظام میں اصلاحات کی سمت ابتدائی قدم اٹھائے ہیں لیکن پاکستان کرپشن انڈیکس 2025 کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
واچ ڈاگ نے نشاندہی کی کہ طویل مدتی بہتری کا انحصار درج ذیل اقدامات پر کامیاب عمل درآمد پر ہوگا:
حکومتی اصلاحات: ادارہ جاتی خود مختاری کو مضبوط بنانا۔
اینٹی کرپشن اقدامات: خاص طور پر وہ اقدامات جو آئی ایم ایف (IMF) کی گورننس اور کرپشن تشخیصی رپورٹ میں تجویز کیے گئے ہیں۔
رپورٹ نے دنیا میں ایک افسوسناک رجحان کو بھی اجاگر کیا۔ ڈنمارک 89 کے سکور کے ساتھ فہرست میں پہلے نمبر پر رہا جبکہ صومالیہ جیسے ممالک کا سکور 10 سے بھی کم رہا۔
رپورٹ میں آزاد صحافت پر بھی سخت انتباہ جاری کیا گیا۔ اس میں نشاندہی کی گئی کہ مالی بدعنوانی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو کم سکور والے ممالک میں مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان کا خاص طور پر ان ممالک میں ذکر کیا گیا جہاں کرپشن کی رپورٹنگ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ وہاں "سوک اسپیس” (شہری آزادی) محدود ہے۔






