ایک اہم پیش رفت میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ کمیٹی نے بل کو قومی اسمبلی سے حتمی منظوری کے لیے بھیجنے کی سفارش کر دی ہے جو کہ ملکی قوانین میں ایک اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اجلاس کی تفصیلات اور صدارت
یہ اہم فیصلہ پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت ایم این اے راجہ خرم شہزاد نواز نے کی۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 کا جائزہ لینا تھا جسے اراکین نے تفصیلی بحث کے بعد منظور کر لیا۔
شہداء کے لیے دعائے مغفرت
اجلاس کا آغاز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے افسوسناک خودکش حملے کے شہداء کے لیے دعائے مغفرت سے ہوا۔ کمیٹی کے اراکین نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور پھر پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 پر قانون سازی کی کارروائی شروع کی۔
اہم شخصیات کی شرکت
اجلاس میں وزارت داخلہ، وزارت قانون و انصاف اور وزارت پارلیمانی امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس بھی پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 کے مسودے پر بریفنگ دینے کے لیے موجود تھے۔
کمیٹی نے اسی اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل کا بھی جائزہ لیا تاہم اس پر مزید بحث کو اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔ فی الحال تمام تر توجہ پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 کی منظوری پر مرکوز رہی۔






