بھارت میں مہلک نپاہ وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد کئی ایشیائی ممالک نے ایئرپورٹس پر اسکریننگ سخت کر دی ہے تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس صورتحال نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
تو آخر نپاہ وائرس کیا ہے اور یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟ آئیے آسان الفاظ میں سب کچھ جانتے ہیں۔
نپاہ وائرس کیا ہے؟
نپاہ ایک نایاب لیکن خطرناک وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کے قدرتی میزبان پھل کھانے والے چمگادڑ (Fruit Bats) ہیں جو وائرس انسانوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO)کے مطابق نپاہ بعض اوقات بغیر علامات کے بھی ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر کیسز میں یہ شدید شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس میں اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے جو علاج اور طبی سہولتوں پر منحصر ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ وائرس انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے مگر یہ آسانی سے نہیں پھیلتا اور عام طور پر اس کے پھیلاؤ کو محدود رکھا جا سکتا ہے۔
نپاہ وائرس کتنا عام ہے؟
نپاہ وائرس پہلی بار 1999 میں ملائشیا میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد سے ہر سال چھوٹے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کی خبریں آتی رہتی ہیں زیادہ تر بنگلہ دیش میں اور کبھی کبھار بھارت میں۔
صحت کے عالمی اداروں کے مطابق اب تک دنیا بھر میں تقریباً 750 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 400 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ زیادہ تر وبائیں محدود رہتی ہیں۔
نپاہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
ابتدائی طور پر نپاہ وائرس متاثرہ سوروں کے ذریعے پھیلا لیکن اب اس کا بڑا ذریعہ چمگادڑ ہیں۔
لوگ عام طور پر ان طریقوں سے متاثر ہوتے ہیں:
چمگادڑ کے تھوک یا پیشاب سے آلودہ پھل کھانے سے
کچا کھجور کا رس پینے سے جسے چمگادڑ نے چھوا ہو
متاثرہ شخص کے قریب رہنے یا دیکھ بھال کرنے سے
انسان سے انسان میں منتقلی ممکن ہے مگر صرف قریبی رابطے سے۔
نپاہ وائرس کی علامات کیا ہیں؟
ابتدائی علامات عام بیماری جیسی ہوتی ہیں اسی لیے اس کی جلد تشخیص مشکل ہو جاتی ہے جیسے:
بخار
سر درد
پٹھوں میں درد
کمزوری
قے
جب بیماری شدید ہو جائے تو یہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
دماغ کی سوجن (Encephalitis)
سانس لینے میں مشکل
دورے پڑنا
بے ہوشی یا کوما
کچھ مریض صحت یاب ہونے کے بعد بھی اعصابی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔
ہمیں کتنا پریشان ہونا چاہیے؟
نپاہ وائرس خطرناک ضرور ہے کیونکہ اس میں اموات کی شرح زیادہ ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کووڈ کی طرح عالمی وبا نہیں بن سکتا کیونکہ یہ انسانوں میں آسانی سے نہیں پھیلتا۔
WHO کے مطابق یہ اب بھی ایک اہم صحت عامہ کا مسئلہ ہے خاص طور پر ان ممالک میں جہاں اس کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف ایئرپورٹ اسکریننگ کافی نہیں کیونکہ وائرس کی انکیوبیشن مدت لمبی ہوتی ہے۔
کیا نپاہ وائرس کی کوئی ویکسین یا علاج ہے؟
فی الحال نپاہ وائرس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے صرف علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔
تاہم سائنسدان ویکسین پر کام کر رہے ہیں۔ ایک ویکسین جو کووڈ ٹیکنالوجی پر بنی ہے اس وقت بنگلہ دیش میں فیز ٹو ٹرائلز میں ہے۔
محققین مسلسل اس وائرس پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔
نپاہ وائرس سے بچاؤ کیسے کریں؟
لوگ ان طریقوں سے خطرہ کم کر سکتے ہیں:
کچا کھجور کا رس نہ پئیں
پھل اچھی طرح دھو کر کھائیں
بیمار جانوروں سے دور رہیں
مریضوں کی دیکھ بھال میں حفاظتی تدابیر اپنائیں
آگاہی اور بروقت تشخیص ہی نپاہ وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔






