سینیٹ کی ایک کمیٹی نے باضابطہ طور پر ایک حکومتی بل کی منظوری دے دی ہے جو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) کو دو ماہ تک عارضی طور پر ضبط یا بلاک کرنے کا اختیار دے گا۔ اس نئی ہدایت میں خاص طور پر مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کے زیر استعمال کارڈز کو بلاک کرنے کی اہلیت بھی شامل ہے۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کو جمعرات کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منظور کر لیا۔ حکام کے مطابق قانون سازی کی یہ تبدیلیاں نادرا کے قانونی ڈھانچے کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی قومی سلامتی کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایک اہم قدم ہیں۔
قومی سلامتی کا استحکام
کمیٹی بریفنگ کے دوران حکام نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ شناختی کارڈ قومی سلامتی کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ان شناختی کارڈز کا غلط استعمال داخلی سلامتی کے لیے ایک اہم خطرہ ہے جس سے قومی معیشت کے عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور بالآخر پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو نقصان پہنچتا ہے۔
مشتبہ افراد اور مفرور ملزمان کے خلاف فوری کارروائی
فی الحال نادرا کو فوری کارروائی کرنے میں قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ موجودہ قانون شناختی کارڈز کو عارضی طور پر ضبط کرنے کی واضح اجازت نہیں دیتا۔ نئی مجوزہ ترامیم کے تحت نادرا کو باضابطہ تصدیق کے عمل کے دوران شناختی کارڈز کو عارضی طور پر بلاک کرنے کا قانونی اختیار مل جائے گا۔
حکام نے استدلال کیا کہ یہ وسیع اختیارات مفرور اور جرائم پیشہ مشتبہ افراد کو کارروائی سے بچتے ہوئے بینکنگ سروسز اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس جیسی ضروری سہولیات تک رسائی کے لیے کارآمد شناختی کارڈز استعمال کرنے سے روکنے کے لیے ضروری ہیں۔
اختیارات کے غلط استعمال کے حوالے سے خدشات کو دور کرنے کے لیے حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ یہ عارضی پابندیاں درج ذیل اصولوں کے تحت ہوں گی:
مخصوص مدت: زیادہ سے زیادہ دو ماہ تک محدود۔
قانونی کارروائی کے تابع: افراد کو تحریری نوٹس موصول ہوگا اور انہیں باضابطہ طور پر اپنا جواب دینے کا موقع دیا جائے گا۔
باقاعدہ نظام: تمام انتظامی کارروائیاں سختی سے طے شدہ ٹائم لائنز (اوقات کار) کے مطابق ہوں گی۔
🇵🇰 Senate Standing Committee on #Interior & #NarcoticsControl met under chairmanship of Senator Faisal Saleem Rehman; reviews key legislation including amendments in #PakistanPenalCode, #Hudood laws, #NADRA law, Parliament Lodges issues & law & order briefing on Mardan. pic.twitter.com/NPd4i6ODNe
— ꜱᴇɴᴀᴛᴇ ᴏꜰ ᴘᴀᴋɪꜱᴛᴀɴ 🇵🇰 (@SenatePakistan) March 26, 2026
شناختی کارڈ کے غلط استعمال پر خدشات کا ازالہ
اس اجلاس میں کمیٹی اراکین نے شناختی فراڈ کے حوالے سے بھی اہم خدشات اٹھائے۔ قانون سازوں نے ان الزامات کی نشاندہی کی کہ کچھ افغان باشندوں کے پاس اس وقت اصلی پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں جبکہ اس کے برعکس کچھ حقیقی پاکستانی شہریوں کے کارڈز کو افغان باشندے ہونے کے شبے میں غلط طریقے سے بلاک کر دیا گیا ہے۔
اس کے جواب میں، کمیٹی کے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان خامیوں کا بغور جائزہ لیں اور جلد از جلد اس مسئلے کو حل کریں۔
نیکٹا (NACTA) کی کمیٹی کو انسدادِ انتہا پسندی پر بریفنگ
اس اجلاس میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے ملک میں انتہا پسندانہ بیانیے سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی جاری کوششوں کے حوالے سے ایک جامع بریفنگ بھی شامل تھی۔
نیکٹا حکام نے قانون سازوں کو آگاہ کیا کہ اتھارٹی نے غیر فعال مانیٹرنگ سے ایک فعال اور انٹیلی جنس پر مبنی حکمت عملی کی طرف منتقلی کی ہے۔ اس میں شامل ہیں:
انتہا پسندانہ مواد کا فعال طور پر تجزیہ کرنا۔
مضامین، ویڈیوز اور عوامی لیکچرز کے ذریعے مضبوط جوابی بیانیے تیار کرنا۔
سول سوسائٹی کے گروپس کے ساتھ مل کر کام کرنا۔
نوجوانوں میں آئینی اقدار کو فروغ دینے اور برداشت پیدا کرنے کے لیے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی اقدامات شروع کرنا۔
نادرا کی ترامیم کے علاوہ سینیٹ کمیٹی نے متفقہ طور پر پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) بل 2026 کی بھی منظوری دی جو قومی سلامتی کے حوالے سے قانونی اپ ڈیٹس کے لیے ایک اہم دن ثابت ہوا۔
(FAQs)
سینیٹ کمیٹی کا بل نادرا کو کون سا نیا اختیار دیتا ہے؟
نیا منظور شدہ بل نادرا کو زیادہ سے زیادہ دو ماہ کی مدت کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) کو عارضی طور پر ضبط یا بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ خاص طور پر مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن اور قانون سے فرار ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے بنایا گیا ہے۔
نادرا کا یہ ترمیمی بل کیوں پیش کیا گیا؟
حکام نے بتایا کہ نادرا کے قانونی ڈھانچے کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی قومی سلامتی کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور جرائم پیشہ افراد کی جانب سے بینکنگ اور ٹیلی کام خدمات تک رسائی کے لیے شناختی کارڈ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ قانونی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
کیا شناختی کارڈ بلاک ہونے پر افراد کو جواب دینے کا موقع ملے گا؟
جی ہاں، حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ عارضی بلاک قانونی کارروائی کے تابع ہوگا۔ متاثرہ افراد کو کوئی بھی حتمی انتظامی کارروائی کرنے سے پہلے تحریری نوٹس جاری کیا جائے گا اور جواب دینے کا مناسب موقع دیا جائے گا۔
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں دیگر کن مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا؟
کمیٹی نے افغان باشندوں کے پاس مبینہ طور پر اصلی پاکستانی شناختی کارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی شہریوں کے کارڈز کو غلط طریقے سے بلاک کرنے کے خدشات پر بھی توجہ دی۔ مزید برآں، نیکٹا نے قانون سازوں کو انتہا پسندانہ بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی انٹیلی جنس پر مبنی جاری کوششوں پر بریفنگ دی۔






