پنجاب حکومت نے تاریخی ملتان کلاک ٹاور کی بحالی مکمل کرنے کے بعد اسے عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے۔ یہ منصوبہ شہر کے مشہور اور ثقافتی اہمیت والے نشان کی حفاظت کا حصہ ہے۔
افتتاحی تقریب میں جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری فواد ہاشم ربانی، امریکی قونصل جنرل سٹیسن سینڈرز، پبلک ڈپلومیسی آفیسر ریکوئیل کنگ نیکیڈیمس اور ملتان کمشنر عامر کریم خان نے شرکت کی۔
مہینوں کی محنت کے بعد کلاک ٹاور کو اس کے اصل ڈیزائن اور تاریخی اہمیت کے مطابق بحال کیا گیا ہے تاکہ یہ شہریوں اور سیاحوں کے لیے پرکشش اور محفوظ ہو۔
افتتاحی تقریب اور ملتان کلاک ٹاور کی بحالی
حکام نے کہا کہ ملتان کلاک ٹاور کی بحالی کا مقصد عمارت کی مرمت، ظاہری خوبصورتی میں اضافہ اور تاریخی قدر کو محفوظ بنانا تھا۔
اس پروجیکٹ میں امریکی حکومت نے کلچرل ہیریٹیج پریزرویشن پروگرام کے تحت تعاون کیا جبکہ تکنیکی مدد THAAP نامی نجی ادارے نے فراہم کی۔
اس منصوبے کا مقصد کلاک ٹاور کی اصل شکل کو برقرار رکھنا اور اسے عوام کے لیے مزید محفوظ اور خوبصورت بنانا تھا۔
امریکی تعاون اور ملتان کلاک ٹاور کی بحالی
افتتاحی تقریب میں فواد ہاشم ربانی نے کہا کہ کلاک ٹاور جنوبی پنجاب کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت کے تعاون کی تعریف کی اور کہا کہ دیگر تاریخی مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے بھی ایسے اقدامات ضروری ہیں۔
امریکی قونصل جنرل سٹیسن سینڈرز نے بتایا کہ ملتان کلاک ٹاور کی بحالی تقریباً ایک سال میں مکمل ہوئی اور اس پر تقریباً $200,000 لاگت آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ کے دوران 150 کاریگروں کو عملی تربیت دی گئی جس سے وہ ہنر مند اور تجربہ کار ہوئے۔
پاکستان بھر میں تاریخی ورثے کی حفاظت
سٹیسن سینڈرز نے کہا کہ امریکی حکومت نے پاکستان میں 35 تاریخی مقامات کی بحالی میں مدد فراہم کی ہے جس کے لیے تقریباً $8.4 ملین فنڈز دیے گئے۔
یہ اقدامات نہ صرف تاریخی ورثے کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ مقامی کاریگروں کو عملی تجربہ اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
ملتان کلاک ٹاور کی بحالی کے کامیاب اختتام کے بعد یہ تاریخی عمارت دوبارہ شہریوں اور سیاحوں کے لیے کھل گئی ہے۔
یہ منصوبہ نہ صرف ملتان کی ثقافتی پہچان کو برقرار رکھتا ہے بلکہ بین الاقوامی تعاون کی مثال بھی قائم کرتا ہے کہ پاکستان کے تاریخی ورثے کو مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔






