پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کس طرح زندگیوں کو متاثر کرتا ہے اس کی ایک حیران کن مثال سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اب اپنی روزی روٹی کمانے کے لیے امریکہ میں اوبر (Uber) چلا رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے یہ سینئر رہنما جو کبھی پاکستان کی پارلیمنٹ میں اجلاس کی صدارت کیا کرتے تھے اب اپنے خاندان کی کفالت کے لیے امریکہ کی سڑکوں پر گاڑی چلا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا لیکن حالات نے اسے ناگزیر بنا دیا۔
قاسم سوری نے حال ہی میں اپنی موجودہ مالی مشکلات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں گزر بسر کے لیے رائیڈ ہیلنگ سروس کا سہارا لینا پڑے گا۔
"موجودہ حالات میرے لیے بہت مشکل ہیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے روزی روٹی کے لیے اوبر جیسی سروس پر انحصار کرنا پڑے گا۔”
اگرچہ ان کی قسمت نے ڈرامائی پلٹا کھایا ہے لیکن سوری نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے غلط راستے پر جانے کے بجائے محنت اور ایمانداری کا راستہ منتخب کیا ہے۔
صدور کی میزبانی سے اجنبیوں کی ڈرائیونگ تک
قاسم سوری نے اپنے اقتدار اور اس سے پہلے کے بااثر دنوں کو یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں ان کی رہائش گاہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ عمران خان اور صدر ڈاکٹر عارف علوی جیسی اہم شخصیات ان کے گھر اکثر آتی تھیں۔
ریاست کے سربراہوں کی میزبانی کرنے سے لے کر ایک غیر ملکی سرزمین پر ٹیکسی ڈرائیور بننے تک کا سفر بہت ڈرامائی ہے لیکن قاسم سوری اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ انہوں نے دہرایا کہ ان کا تعلق ایک متوسط طبقے (Middle-class) سے ہے اور انہوں نے ہمیشہ دولت پر عزت کو ترجیح دی ہے۔
عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں
اپنی ذاتی اور مالی مشکلات کے باوجود قاسم سوری اپنی سیاسی وفاداری پر قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ آج بھی عمران خان کے نظریے اور پی ٹی آئی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ یہ ایک بڑی جنگ کا حصہ ہے جو ان مقاصد کے لیے ہے:
پاکستان میں انصاف۔
آئین کی بالادستی۔
عوام کے حقوق۔
قاسم سوری نے عزم ظاہر کیا کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہو جائیں وہ اپنی ایمانداری اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔






