عسکری بینک لمیٹڈ (AKBL) نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے کیلنڈر سال کے لیے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس میں بینک نے 22.9 ارب روپے کی اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ آمدنی ریکارڈ کی ہے۔
بینک کے منافع میں سال بہ سال (YoY) 8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فی شیئر آمدنی (EPS) 15.77 روپے رہی۔
ریکارڈ ڈیویڈنڈ کا اعلان
ریکارڈ توڑ منافع کے علاوہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے چوتھی سہ ماہی کے لیے 1.8 روپے فی شیئر کے حتمی نقد ڈیویڈنڈ (Cash Dividend) کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح سال 2025 کے لیے مجموعی سالانہ ڈیویڈنڈ 5.0 روپے فی شیئر ہو گیا ہے جو مشکل معاشی حالات کے باوجود شیئر ہولڈرز کے لیے بہترین منافع ہے۔
عسکری بینک کی سہ ماہی کارکردگی
اگرچہ سالانہ اعداد و شمار تاریخی رہے لیکن چوتھی سہ ماہی میں سستی دیکھی گئی۔ بینک نے 4.7 ارب روپے (EPS: 3.29 روپے) کی سہ ماہی آمدنی رپورٹ کی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد اور گزشتہ سہ ماہی (QoQ) کے مقابلے میں 36 فیصد کم ہے۔
ترقی کے اہم محرکات (Key Drivers)
عارف حبیب لمیٹڈ کے مالیاتی تجزیے کے مطابق سالانہ آمدنی میں اضافہ بنیادی طور پر درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہوا:
نیٹ انٹرسٹ انکم (NII): این آئی آئی میں 38 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 87.7 ارب روپے ہو گئی۔ یہ اضافہ سود کی آمدنی میں 25 فیصد کمی کے باوجود حاصل ہوا، کیونکہ بینک نے سود کے اخراجات میں 37 فیصد کی نمایاں کمی (213.3 ارب روپے تک) کی۔
نان فنڈڈ انکم (NFI): بینک نے نان فنڈڈ انکم میں نمایاں اضافہ دیکھا جس کی وجوہات یہ تھیں:
سیکیورٹیز پر حاصل ہونے والے منافع میں 51 فیصد اضافہ۔
فیس کمیشن کی آمدنی میں 12 فیصد اضافہ۔
ڈیویڈنڈ انکم میں 12 فیصد اضافہ۔
اخراجات اور ٹیکس کا اثر
آپریٹنگ اخراجات: مہنگائی کی وجہ سے اخراجات میں تیزی دیکھی گئی اور آپریٹنگ اخراجات 39 فیصد اضافے کے ساتھ 50.9 ارب روپے ہو گئے۔ اس سے لاگت اور آمدنی کا تناسب (Cost-to-Income Ratio) بڑھ کر 48 فیصد ہو گیا (جو 2024 میں 46 فیصد تھا)۔
ٹیکسیشن: مؤثر ٹیکس کی شرح 2025 میں بڑھ کر 57 فیصد ہو گئی جو پچھلے سال 53 فیصد تھی۔
پروویژنز: بینک نے 1.8 ارب روپے کے پروویژن اخراجات ریکارڈ کیے جو کہ 2024 میں 1.8 ارب روپے کی نیٹ پروویژن ریورسل کے برعکس ہے۔
بیلنس شیٹ میں توسیع: قرضوں پر سرمایہ کاری کو ترجیح
عسکری بینک کی بیلنس شیٹ نے سرمایہ کاری کی طرف منتقلی کی واضح حکمت عملی ظاہر کی:
ڈیپازٹس: 20 فیصد اضافے کے ساتھ 1.6 ٹریلین روپے ہو گئے۔
سرمایہ کاری: 34 فیصد اضافے کے ساتھ 2.0 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔
ایڈوانسز (قرضے): 16 فیصد کم ہو کر 586 ارب روپے رہ گئے۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں انویسٹمنٹ ٹو ڈیپازٹ ریشو (IDR) 124.4 فیصد ہو گیا جبکہ ایڈوانس ٹو ڈیپازٹ ریشو (ADR) کم ہو کر 35.9 فیصد رہ گیا۔






