- طالبان نے پاکستان سے افغانون کی بے دخلی روکنے کی اپیل کی ہے۔
- پاکستان کا آئی ایف آر پی پروگرام نومبر 2024 سے 700,000+ افغانوں کو بے دخل کر چکا ہے اور اب ACC ہولڈرز کو بھی شامل کر لیا ہے۔
- خیبر پختونخوا کے حکام نے عیدالفطر کی تعطیلات کی وجہ سے 10 اپریل تک بے دخلی میں تاخیر کی تجویز دی ہے۔
افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان شہریوں کی جبری بے دخلی کو روکا جائے۔
افغان سٹیزن شپ کارڈ ہولڈرز کے لیے رضاکارانہ واپسی کی مہلت 31 مارچ کو ختم ہو چکی ہے۔
پاکستان کی وزارت داخلہ نے 6 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ تمام غیر قانونی غیر ملکیوں بشمول اے سی سی ہولڈرز کو یکم اپریل 2025 سے پہلے رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنا ہوگا بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے ملک بدری کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اس وقت پاکستان میں 15 لاکھ 20 ہزار رجسٹرڈ افغان پناہ گزین افراد مقیم ہیں جبکہ تقریباً 8 لاکھ اے سی سی ہولڈرز اور بے شمار غیر رجسٹرڈ افغان بھی موجود ہیں۔
افغان حکومت نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی ویزا رکھنے والے افغانوں کو بھی بے دخل کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین مولوی عبد الکبیر نے پاکستان اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان باشندوں کو جبری طور پر نکالنے کے بجائے انہیں رضاکارانہ
طور پر واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے افغان شہریوں کے ساتھ انسانیت پر مبنی سلوک کی ضرورت پر زور دیا ہے اور سرحدوں پر بدسلوکی کے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے حکام نے عید الفطر کی تعطیلات کے پیش نظر افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو 10 اپریل تک مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس تجویز کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے لیے صوبائی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں حکام نے ملک بدری کے عمل کے لیے درکار انتظامات اور مالی وسائل پر غور کیا ہے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اے سی سی ہولڈرز کی واپسی کا آغاز یکم اپریل کے بجائے 10 اپریل کے بعد کیا جائے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے وفاقی حکومت سے مالی معاونت کی درخواست کی ہے کیونکہ بے دخلی کا منصوبہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
تاحال اس مالی معاونت کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کا غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا پروگرام نومبر 2024 سے نافذ العمل ہے جس کے تحت اب تک 7 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ افغانوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے اب اس پالیسی کواے سی سی ہولڈرز تک بھی بڑھا دیا ہے۔
افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے حالیہ ملاقات میں پاکستان کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان محمد صادق سے درخواست کی ہے کہ افغان مہاجرین کی بے دخلی کے عمل کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا جائے کیونکہ ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی افغانستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔