وفاقی حکومت نے صحت سہولت ہیلتھ کارڈ پروگرام کو بحال کر دیا ہے جس کے تحت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی لاکھوں کی آبادی کو دوبارہ مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ پروگرام کی نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں کیا ہے۔
یہ منصوبہ تقریباً 40 ارب روپے کی لاگت پر مشتمل ہے جو 30 جون 2027 تک جاری رہے گا۔ اس منظوری کے بعد صحت سہولت کارڈ کی خدمات 16 جنوری سے شروع ہو جائیں گی جس کے تحت اہل خاندان ایک بار پھر مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔
اجلاس میں اعلیٰ سطحی صحت حکام نے شرکت کی جن میں سیکرٹری صحت، اسپیشل سیکرٹری صحت اور صحت سہولت پروگرام کے سی ای او شامل تھے۔
کمیٹی نے خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور نادرا کے ساتھ معاہدوں میں توسیع کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ بقایا جات حکومت کے ترقیاتی فنڈز کے ذریعے ادا کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسپتالوں کو براہِ راست چلانے کے بجائے ہیلتھ انشورنس نظام کو فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ صحت کے شعبے میں معیار اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔ مارچ 2024 میں ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث یہ پروگرام عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا جس سے اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہری متاثر ہوئے تھے۔
صحت سہولت ہیلتھ کارڈ کی بحالی کے بعد ایک بار پھر لاکھوں خاندان طبی امداد سے مستفید ہو سکیں گے اور انہیں مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔






