کرکٹ سے محبت کرنے والے شہر سیالکوٹ کے لیے 2026 کا پاکستان سپر لیگ (PSL) سیزن ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہونے والا تھا۔ شہر کو بالآخر اپنی فرنچائز ‘سیالکوٹ اسٹالینز’ (Sialkot Stallionz) مل گئی تھی جس سے مقامی شائقین میں بے پناہ خوشی تھی۔ تاہم اس سے پہلے کہ یہ ٹیم اپنا پہلا میچ کھیلتی اس فرنچائز کا نام اچانک تبدیل کر کے ‘ملتان سلطانز’ (Multan Sultans) رکھ دیا گیا۔
اس تبدیلی نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ سیالکوٹ کے شائقین صرف مایوس ہی نہیں ہیں؛ بلکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے شہر کی نمائندگی ان سے چھین لی گئی ہے۔ یہاں ان مالی بحرانوں اور ملکیتی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے جن کی وجہ سے یہ متنازعہ ری برانڈنگ ہوئی اور یہ کہ سیالکوٹ کی فین بیس اس پر اتنا سخت ردعمل کیوں دے رہی ہے۔
سیالکوٹ اسٹالینز کی ری برانڈنگ کے پیچھے کیا وجہ تھی؟
اس شناختی بحران کی جڑیں ایک اچانک ہونے والے مالی بحران میں پیوست ہیں۔ سیالکوٹ اسٹالینز کی فرنچائز ابتدائی طور پر ‘اوزی ڈیولپرز’ (OZ Developers) نے خریدی تھی۔ شائقین اس بات پر پرجوش تھے کہ بالآخر ایک ٹیم ان کے شہر کی شاندار کرکٹنگ تاریخ کی نمائندگی کرے گی۔
بدقسمتی سے جلد ہی اوزی ڈیولپرز کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کو فرنچائز فیس کے واجبات ادا کرنے میں ناکام رہے۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹیم کے ختم ہونے کے خطرے کے پیش نظر فرنچائز کو بچانے کے لیے ایک نئے سرمایہ کار کا میدان میں آنا ضروری تھا۔
سی ڈی وینچرز اور ‘ملتان سلطانز’ کی واپسی
مالی مشکلات میں گھری اس فرنچائز کو بچانے کے لیے گوہر شاہ کی زیرِ قیادت ‘سی ڈی وینچرز’ (CD Ventures) نے قدم بڑھایا اور سیالکوٹ کی ٹیم میں 98 فیصد کنٹرولنگ حصص (stake) حاصل کر لیے۔ اگرچہ اس اقدام نے فرنچائز کو ختم ہونے سے بچا لیا لیکن اس کی بھاری قیمت سیالکوٹ کے شائقین کو اپنے شہر کے نام سے محروم ہو کر چکانی پڑی۔
اسی دوران ملتان کی اصل فرنچائز کو ‘ولی ٹیکنالوجیز’ (Walee Technologies) نے خرید لیا تھا جنہوں نے بعد ازاں اس ٹیم کو راولپنڈی منتقل کر کے اس کا نیا نام "پنڈیز” (Pindiz) رکھ دیا۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد پی ایس ایل میں انتہائی مقبول نام "ملتان سلطانز” خالی ہو گیا۔
سیالکوٹ فرنچائز کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سی ڈی وینچرز کی نئی مینجمنٹ نے ایک حیران کن فیصلہ کیا۔ انہوں نے سیالکوٹ کا نام برقرار رکھنے کے بجائے پی سی بی سے باقاعدہ درخواست کی کہ انہیں خالی ہونے والا "ملتان سلطانز” کا ٹائٹل اپنانے کی اجازت دی جائے۔ پی سی بی نے یہ درخواست منظور کر لی جس سے سیالکوٹ کا نام پی ایس ایل 11 کے روسٹر سے باضابطہ طور پر مٹ گیا اور ٹیم ملتان کی شناخت کے حوالے کر دی گئی۔
CD Ventures owner Gohar Shah:
— Hassan Abbasian (@HassanAbbasian) March 3, 2026
From day one, my only interest was to get Multan Sultans. I was even ready to wait for 10 years, but in the end, my sole purpose was always to get Multan ♥️♥️ pic.twitter.com/P3FoBP0T1G
سیالکوٹ کے شائقین شدید غصے میں کیوں ہیں؟
سیالکوٹ کی کمیونٹی کا ردعمل فوری اور شدید رہا ہے۔ یہاں وہ وجوہات بیان کی گئی ہیں کہ شائقین اس قدر شدید مایوسی کا اظہار کیوں کر رہے ہیں:
شہر کی نمائندگی کا مکمل خاتمہ: غصے کی سب سے بڑی وجہ لیگ سے "سیالکوٹ” کے نام کا مکمل طور پر ہٹا دیا جانا ہے۔ شائقین نے پی ایس ایل کے اسٹیج پر اپنے شہر کی پہچان کے لیے برسوں انتظار کیا لیکن ان کی جگہ ایک بالکل مختلف شہر کی نمائندگی کے حوالے کر دی گئی۔
محض ایک عارضی نام (Placeholder) کے طور استعمال ہونے کا احساس: سیالکوٹ کے شائقین کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے شہر کو محض ایک عارضی متبادل کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جیسے ہی ملتان سلطانز کا نام دستیاب ہوا نئی مالکانہ انتظامیہ نے ایک مشہور برانڈ نام سے فائدہ اٹھانے کے لیے سیالکوٹ کی شناخت کو ترک کر دیا جو سیالکوٹ کے لیے کوئی لیگیسی (legacy) بنانے میں ان کی عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔
مالکان کی غلطیوں کی سزا: شائقین محسوس کرتے ہیں کہ وہ اصل مالکان (OZ Developers) کی مالی بدانتظامی کی قیمت چکا رہے ہیں۔ اگر ابتدائی سرمایہ کار مالی طور پر مستحکم ہوتے تو آج سیالکوٹ کے پاس اپنی ٹیم موجود ہوتی۔
ایک ایسا شہر جس نے پاکستان کے عظیم ترین کرکٹرز پیدا کیے اور جو دنیا بھر کے لیے کھیلوں کا سامان تیار کرتا ہے اس کے لیے اپنی پی ایس ایل کی شناخت کو مٹتے اور ملتان سلطانز سے تبدیل ہوتے دیکھنا ایک انتہائی کڑوا گھونٹ ہے۔
سیالکوٹ کی پی ایس ایل ٹیم کا نام تبدیل کر کے ملتان سلطانز کیوں رکھا گیا؟
مالی مسائل کی وجہ سے سیالکوٹ ٹیم کے اصل مالکان کو اپنے اکثریتی حصص سی ڈی وینچرز کو فروخت کرنے پڑے۔ چونکہ ملتان کی اصل فرنچائز راولپنڈی منتقل ہو چکی تھی، اس لیے سیالکوٹ ٹیم کے نئے مالکان نے سیالکوٹ کی شناخت برقرار رکھنے کے بجائے خالی ہونے والے نام "ملتان سلطانز” کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
2026 میں نئی ملتان سلطانز (سابقہ سیالکوٹ) کا مالک کون ہے؟
یہ فرنچائز، جسے اصل میں سیالکوٹ اسٹالینز ہونا تھا اب اکثریت کے لحاظ سے سی ڈی وینچرز کی ملکیت ہے جنہوں نے ٹیم کا نام تبدیل کر کے ملتان سلطانز رکھ دیا ہے۔
کیا سیالکوٹ کو پی ایس ایل کی کوئی اور ٹیم ملے گی؟
فی الحال سیالکوٹ کی شناخت کو پی ایس ایل 11 کے روسٹر سے مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ جب تک پی سی بی مستقبل میں مزید نئی (expansion) ٹیموں کا اعلان نہیں کرتا تب تک سیالکوٹ کے شائقین اپنے شہر کی نمائندگی کرنے والی فرنچائز کے بغیر ہی رہیں گے۔






