قومی بحرانوں، ہنگامی حالات یا حساس سیاسی واقعات کے دوران سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار بن جاتا ہے۔ اگرچہ ایکس (سابقہ ٹویٹر)، فیس بک اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز تازہ ترین اپڈیٹس اور لوگوں سے جڑے رہنے کے لیے انتہائی اہم ہیں لیکن یہ غلط معلومات، خوف و ہراس اور معاشرتی تقسیم پھیلانے کا گڑھ بھی بن سکتے ہیں۔
جب جذبات عروج پر ہوں تو نادانستہ طور پر اس افراتفری کا حصہ بن جانا بہت آسان ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ اپنا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ (digital footprint) ذمہ داری سے کیسے استعمال کیا جائے۔ حساس قومی واقعات کے دوران سوشل میڈیا کو ذمہ داری سے استعمال کرنے کے حوالے سے ایک جامع گائیڈ درج ذیل ہے۔
شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کریں (3 منٹ کا اصول)
کسی بھی قومی ایمرجنسی کے دوران سب سے بڑا خطرہ جعلی خبروں (Fake News) کا تیزی سے پھیلنا ہے۔ شیئر یا ریٹویٹ کا بٹن دبانے سے پہلے لازمی طور پر 3 منٹ کا وقفہ لیں۔
خبروں کی تصدیق کریں: کیا اس معلومات کو متعدد مستند اور معروف نیوز چینلز رپورٹ کر رہے ہیں؟ اگر کوئی سنسنی خیز دعویٰ صرف کسی غیر معروف بلاگ یا گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نظر آ رہا ہے تو امکان ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔
تاریخ دیکھیں: پرانی ویڈیوز اور تصاویر کو اکثر موجودہ حالات سے جوڑ کر دوبارہ وائرل کیا جاتا ہے۔ ہمیشہ مواد کی اصل تاریخ اور ٹائم اسٹیمپ چیک کریں۔
ریورس امیج سرچ (Reverse Image Search) کریں: گوگل امیجز جیسے ٹولز کا استعمال کر کے دیکھیں کہ کہیں یہ تصویر کسی دوسرے ملک کے کسی پرانے واقعے کی تو نہیں ہے۔
مستند اور سرکاری ذرائع پر انحصار کریں
حساس اوقات میں افواہیں حقائق سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ واٹس ایپ پر آنے والے غیر تصدیق شدہ فارورڈ میسجز یا انفلوئنسرز کی آراء پر انحصار کرنے کے بجائے سرکاری بیانات تلاش کرنے کی عادت ڈالیں۔
تصدیق شدہ سرکاری ہینڈلز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آفیشل پیجز اور تسلیم شدہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام (جیسے NDMA یا PDMA) کو فالو کریں۔
یاد رکھیں کہ میرے دوست کا چچا اس محکمے میں کام کرتا ہے اور اس نے کہا ہے… کوئی مستند ذریعہ نہیں ہے۔ اپنی معلومات کی بنیاد سنی سنائی باتوں پر نہیں بلکہ تصدیق شدہ حقائق پر رکھیں۔
دلخراش یا حساس مواد شیئر نہ کریں
کسی سانحے کے بعد متاثرین کی تصاویر اور ویڈیوز اکثر سوشل میڈیا پر سیلاب کی طرح آ جاتی ہیں۔ ایسا مواد شیئر کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی ہے۔
انسانی وقار کا احترام کریں: زخمی یا جاں بحق ہونے والے افراد کی تصاویر شیئر کرنا ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے اور ان کے اہل خانہ کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے۔
خوف و ہراس پھیلانے سے گریز کریں: دلخراش مواد عوام میں شدید بے چینی اور خوف و ہراس (Panic) پیدا کر سکتا ہے۔
اگر آپ کو کسی واقعے کے بارے میں اپڈیٹ شیئر کرنی ہی ہے تو خون آلود مناظر کے بجائے تحریر (Text) یا سرکاری پریس ریلیز شیئر کریں۔
اپنے لہجے اور جذباتی ردعمل کا خیال رکھیں
قومی واقعات اکثر شدید جذباتی ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔ غصہ، اداسی یا بے چینی محسوس کرنا بالکل فطری ہے لیکن آن لائن ان کچے جذبات کا اظہار غیر ضروری بحثوں کو ہوا دے سکتا ہے۔
انٹرنیٹ ٹرولز (trolls) کے ساتھ زہریلی بحثوں میں الجھنے سے گریز کریں۔
ایسی اشتعال انگیز زبان استعمال نہ کریں جو مخصوص کمیونٹیز، نسلوں یا گروہوں کے خلاف تشدد یا نفرت کو ہوا دے۔
اس بات کو تسلیم کریں کہ صورتحال کشیدہ ہے اور اپنے ڈیجیٹل حلقے میں عقل، تحمل اور سکون کی آواز بننے کی کوشش کریں۔
غلط معلومات (Misinformation) کو فوری رپورٹ کریں
ذمہ داری صرف آپ کی اپنی پوسٹس پر ختم نہیں ہوتی؛ یہ اس بات تک بھی پھیلی ہوئی ہے کہ آپ دوسروں کے مواد کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اگر آپ کو جعلی خبریں، ڈیپ فیکس (deepfakes) یا ہیٹ اسپیچ (نفرت انگیز تقریر) نظر آئے تو اس پر کمنٹ کر کے بحث نہ کریں (کیونکہ اس سے الگورتھم اسے مزید وائرل کرے گا)۔ اس کے بجائے پلیٹ فارم کے بلٹ اِن ٹولز استعمال کرتے ہوئے اس پوسٹ کو فوری طور پر رپورٹ (Report) کریں۔
مجھے واٹس ایپ پر غیر تصدیق شدہ وائس نوٹس (Voice Notes) کیوں فارورڈ نہیں کرنے چاہئیں؟
وائس نوٹس آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں اور ان میں بصری ثبوت یا ذرائع کی کمی ہوتی ہے۔ بحرانوں کے دوران انہیں فارورڈ کرنا اکثر بڑے پیمانے پر خوف و ہراس اور جھوٹے الارم کا سبب بنتا ہے۔ معلومات کی تصدیق کے لیے ہمیشہ سرکاری نیوز چینلز کا انتظار کریں۔
جعلی خبریں شیئر کرنے والے شخص کی اصلاح کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
انہیں پبلک میں شرمندہ نہ کریں، کیونکہ اس سے لوگ اکثر دفاعی (defensive) ہو جاتے ہیں۔ انہیں شائستگی کے ساتھ ایک پرائیویٹ میسج بھیجیں جس میں کسی مستند ذریعے کا لنک ہو جو ان کی پوسٹ کو غلط ثابت کرتا ہو اور نرمی سے ان سے وہ پوسٹ ہٹانے کا کہیں۔
قومی بحران کے دوران میں اپنی ذہنی صحت (Mental Health) کا تحفظ کیسے کر سکتا ہوں؟
اپنے اسکرین ٹائم کو محدود کریں۔ المناک خبروں کو مسلسل اسکرول کرنا آپ کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ خبریں چیک کرنے کے لیے مخصوص اوقات مقرر کریں اور اس کے بعد لاگ آف کر کے خود کو منقطع کر لیں۔






