وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں "سمارٹ لاک ڈاؤن” اور کفایت شعاری کے سخت اقدامات نافذ کرنے کے حوالے سے حالیہ رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہیں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
اعلیٰ سرکاری حکام نے سامنے آ کر ان افواہوں کی واضح طور پر تردید کی ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فی الحال ایسی کوئی پالیسی نافذ نہیں کی گئی۔
حکومت کی جانب سے ملک گیر لاک ڈاؤن کی افواہوں کی تردید
گزشتہ چند دنوں کے دوران وسیع پیمانے پر یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ حکومت ملک بھر میں سخت پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ درج ذیل دعوؤں کے حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن یا ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا:
ملک گیر لاک ڈاؤن: سمارٹ لاک ڈاؤن یا بڑے پیمانے پر مارکیٹیں بند کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔
ریموٹ ورک کی پابندیاں: وہ افواہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نجی دفاتر کو سختی سے ریموٹ ورک کی ہدایت کی جائے گی اور سرکاری دفاتر ڈیجیٹل حاضری کے ساتھ ہائبرڈ ماڈل پر منتقل ہوں گے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
توانائی پر پابندیاں: یہ قیاس آرائیاں کہ سرکاری عمارتوں کو فوری طور پر شمسی توانائی (Solar Power) پر منتقل ہونے پر مجبور کیا جائے گا یا توانائی کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی ابھی تک حتمی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا اعلان کیا گیا ہے۔
فیک خبروں اور جھوٹی پوسٹس کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 29, 2026
ذمہ دار شہری بنیں، صرف مستند ذرائع پر اعتماد کریں۔
آپ کی ایک شیئر معاشرے میں غلط فہمی پھیلا سکتی ہے۔ #ThinkBeforeYouShare pic.twitter.com/4vGlwFsCXy
صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں
میڈیا اداروں سے بات کرتے ہوئے اعلیٰ حکام نے تصدیق کی کہ تمام معمولات زندگی معمول کے مطابق جاری ہیں۔ حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا ہے اور اس کے برعکس کوئی بھی رپورٹ یا سوشل میڈیا پوسٹ انتہائی گمراہ کن ہے۔
حکام نے تمام شہریوں کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ پیغامات شیئر کرنا بند کریں اور قومی پالیسیوں یا عوامی تحفظ کے اقدامات کے حوالے سے کسی بھی اپڈیٹ کے لیے صرف سرکاری حکومتی ذرائع اور تصدیق شدہ نیوز چینلز پر انحصار کریں۔
(FAQs)
کیا اس وقت پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہے؟
جی نہیں، اس وقت پاکستان میں کوئی سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہے۔ اعلیٰ سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک گیر لاک ڈاؤن کے حوالے سے گردش کرنے والی حالیہ افواہیں مکمل طور پر جھوٹی ہیں۔
کیا حکومت نے نجی دفاتر کے لیے ریموٹ ورک لازمی قرار دیا ہے؟
نجی دفاتر کے لیے ریموٹ ورک یا سرکاری ملازمین کے لیے ہائبرڈ ورک ماڈل کے حوالے سے کوئی سرکاری ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ یہ دعوے بالکل بے بنیاد ہیں۔
کیا سرکاری عمارتوں کے لیے توانائی کی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟
ایسی رپورٹس جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری عمارتوں کو فوری طور پر شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے یا توانائی کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے ان کی نہ تو منظوری دی گئی ہے اور نہ ہی ان کا اعلان کیا گیا ہے۔






