سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک نوٹیفکیشن نے پاکستان میں سرکاری ملازمین کے درمیان سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمرکے حوالے سے ایک بار پھر کنفیوژن پیدا کر دی ہے۔ وائرل ہونے والی دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں تین سال کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 60 سے بڑھا کر 63 سال کر دیا ہے۔
تاہم سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ خبر جعلی (FAKE) ہے اور ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
ریٹائرمنٹ کی عمر کے حوالے سے وائرل دعویٰ
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے منسوب یہ جعلی دستاویز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو تین سال کی توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے ہوگا۔
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر پر سرکاری موقف
حکام نے اس نوٹیفکیشن کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے جعلی اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ:
ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
فنانس ڈویژن یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی کوئی باضابطہ منظوری نہیں دی گئی ہے۔
حکام نے گردش کرنے والے کاغذ میں متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے جو اس کے جعلی ہونے کا ثبوت ہیں:
غلط لوگو (Incorrect Logo): دستاویز وفاقی آرڈر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس پر خیبر پختونخوا حکومت کا لوگو لگا ہوا ہے۔
وزارت کا جعلی ٹائٹل: اس میں "منسٹری آف پاکستان اسلام آباد” کا غیر معمولی اور غلط عنوان استعمال کیا گیا ہے۔
جعلی دستخط: دستاویز میں "شکیل قادر خان، چیف سیکرٹری، منسٹری آف پاکستان” کے دستخط موجود ہیں، جسے حکام نے جعلی قرار دیا ہے۔
من گھڑت حوالہ جات: فنانس اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے منسلک ریفرنس نمبرز من گھڑت ہیں اور سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہیں۔
متعلقہ حکام نے عوام اور سرکاری ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا پوسٹس پر انحصار کرنے سے گریز کریں۔ اس طرح کے جعلی نوٹیفکیشن اکثر بے یقینی پیدا کرنے کے لیے پھیلائے جاتے ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ مستند سرکاری ذرائع اور سرکاری گزٹ کے ذریعے معلومات کی تصدیق کریں۔






