مقدس مہینے کے دوران صارفین کے لیے ایک بڑے ریلیف کی خبر آئی ہے۔ پاکستان نانبائی ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ 30 رمضان 2026 تک روٹی اور نان کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
یہ فیصلہ جنرل کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت مرکزی صدر شفیق قریشی نے کی جس میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، مری اور تلہ گنگ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شدید مہنگائی کے دباؤ کے باوجود ایسوسی ایشن نے روزہ داروں کی سہولت کے لیے موجودہ ریٹس برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
عید الفطر کے بعد قیمتوں میں اضافہ
اگرچہ فی الحال قیمتیں منجمد (Frozen) ہیں لیکن ایسوسی ایشن نے عید الفطر کے فوراً بعد قیمتوں میں لازمی اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ مالی طور پر ناقابل برداشت آپریٹنگ اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے قیادت نے عید کے بعد کا نیا پرائس سٹرکچر جاری کیا ہے:
روٹی اور نان: قیمت میں 5 روپے کا اضافہ ہوگا۔
پراٹھا اور روغن نان: قیمت میں 10 روپے کا اضافہ ہوگا۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات
ایسوسی ایشن نے مستقبل میں ہونے والے اضافے کی بنیادی وجہ خام مال کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو خام مال کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اخراجات میں اضافے کی تفصیلات یہ ہیں:
آٹا (79 کلو گرام تھیلا): قیمت 7,600 روپے سے بڑھ کر 11,700 روپے ہو گئی ہے۔
فائن آٹا (میدہ): 8,200 روپے سے بڑھ کر 12,600 روپے ہو گیا ہے۔
ایل پی جی سلنڈر: کمرشل سلنڈر کی قیمت 16,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
دیگر اخراجات: لیبر کی اجرت، بجلی کے نرخوں اور تندور کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ رمضان کے آخر تک آٹے کے فی تھیلے میں مزید 2,200 روپے تک اضافے کا امکان ہے۔ صدر شفیق قریشی نے کہا کہ اگر حکومت نے ان قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا تو نقصانات کی وجہ سے عید کے بعد کئی تندور بند ہونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔






