پاکستان نے 4 اپریل کو سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 46ویں برسی منائی۔ اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا انعقاد کیا تاکہ ان کی روح کو ایصال ثواب پہنچایا جا سکے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کو "وہ شخص جس نے پاکستان کے لیے ایک ترقی پسند آئین کی بنیاد رکھی جس نے عوامی جمہوریت اور بنیادی حقوق کی ضمانت دی” کے طور پر یاد کیا۔ بلاول بھٹو نے 1971 کی شکست کے بعد پاکستان کی تعمیر نو میں بھٹو کی بصیرت کی تعریف کی اور کہا کہ ذولفقار علی بھٹو نے جو چیز قوم کو دی وہ امید تھی اور ایک روڈ میپ تھا۔
بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کی سفارتی کامیابیوں کی بھی تعریف کی بشمول شملہ معاہدہ جس کے تحت پاکستان کو 5000 مربع میل کا علاقہ واپس ملا اور بھارت سے 90,000 جنگی قیدیوں کی واپسی ممکن ہوئی۔ بھٹو نے ملک کی معیشت، زراعت اور صنعتوں کو بدل ڈالا اور محنت کش طبقے کو حقوق دے کر ان کو بااختیار بنایا۔
پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے دفاع کو مستحکم کرنے اور ان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کی جس نے پاکستان کو مسلم دنیا اور عالمی سطح پر عزت دی۔ بلاول بھٹو نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ وہ بھٹو کے وژن کے مطابق ایک مضبوط، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے لیے اپنی جماعت کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکرٹری جنرل شازیہ مری نے بھی اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں بھٹو کے معروف قول "عوام طاقت دیتی ہے” کا ذکر کیا اور کہا کہ بھٹو کی سوچ نے پاکستان میں آمریت کو پنپنے نہیں دیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ بھٹو کا وژن یہ تھا کہ ایک ایسا پاکستان ہو جہاں ہر شہری کو اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا حق حاصل ہو۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا۔ مری نے اس موقع پر یاد دلایا کہ جنرل ضیاء کی آمریت اور بھٹو کی پھانسی کبھی بھی ان کی سوچ اور نظریات کو نہیں مٹا سکتے ۔