پاکستان نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی گئی حالیہ T20 سیریز میں آسٹریلیا کے خلاف تاریخی 0-3 سے وائٹ واش مکمل کر لیا ہے۔ تاہم پاکستان کی 111 رنز کی شاندار فتح کے جشن کے دوران وکٹ کیپر خواجہ نافع اور آسٹریلوی بیٹر کوپر کونولی کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے نے آئی سی سی قوانین کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ری پلے سے انکشاف ہوا ہے کہ کوپر کونولی کی اسٹمپنگ جس نے محمد نواز کو ان کی پانچویں وکٹ دلائی تکنیکی طور پر غیر قانونی تھی اور اسے "ناٹ آؤٹ” دیا جانا چاہیے تھا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آسٹریلیا 208 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کر رہا تھا۔ 6 وکٹوں کے نقصان پر 82 رنز کے ساتھ آسٹریلیا کی ٹیم مشکلات کا شکار تھی جب کوپر کونولی محمد نواز کا سامنا کرنے کے لیے کریز سے باہر نکلے۔ گیند لیگ سائیڈ پر اسپن ہوئی اور بیٹر مکمل طور پر بیٹ ہو گئے۔
خواجہ نافع نے گیند پکڑی اور فوراً بیلز گرا دیں۔ اسکوائر لیگ امپائر نے انگلی اٹھا دی اور کونولی پویلین واپس لوٹ گئے۔ تاہم بعد میں سلو موشن ری پلے نے ایک اہم غلطی کو نمایاں کیا جسے فیلڈ امپائرز نوٹس نہیں کر سکے:
گیند نافع کے دائیں ہاتھ میں موجود تھی۔
تاہم انہوں نے وکٹیں گرانے کے لیے اپنا بایاں ہاتھ استعمال کیا۔
Cooper Connolly was given out stumped in the third Pakistan-Australia T20I… but was it the wrong decision? 👀 pic.twitter.com/udYWR0Akik
— Wisden (@WisdenCricket) February 2, 2026
خواجہ نافع کی اسٹمپنگ غیر قانونی کیوں تھی؟
کرکٹ کے قوانین کے مطابق وکٹ صرف اس صورت میں "جائز طور پر ٹوٹی ہوئی” (Fairly Broken) سمجھی جاتی ہے اگر بیلز ہٹانے والے ہاتھ میں گیند موجود ہو۔
آئی سی سی کی شق 29.2.1 کے مطابق:
"وکٹ اس وقت جائز طور پر ٹوٹی ہوئی سمجھی جائے گی اگر فیلڈر اپنے ہاتھ یا بازو سے بیلز کو اسٹمپ کے اوپر سے ہٹائے بشرطیکہ گیند اسی ہاتھ یا بازو میں ہو جس سے وکٹ گرائی گئی ہے۔”
اس مخصوص کیس میں چونکہ نافع نے اپنے خالی بائیں ہاتھ سے وکٹیں گرائیں جبکہ گیند ان کے دائیں ہاتھ میں تھی اس لیے یہ آؤٹ تکنیکی طور پر غلط (Invalid) تھا۔ اگر امپائرز اس تکنیکی غلطی کو دیکھ لیتے تو کونولی بچ جاتے اور محمد نواز 5 کے بجائے 4 وکٹیں حاصل کر پاتے۔






