حکومت نے جرمنی میں پاکستانیوں کے لیے جابز کا اعلان کر دیا ہے جس سے ہنرمند پیشہ ور افراد خصوصاً صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے مطابق یہ اعلان اس لیے کیا گیا ہے کہ جرمنی کو اس وقت نرسز اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
BEOE کے مطابق وہ پاکستانی شہری جو ڈپلومہ یا ڈگری رکھتے ہیں جرمنی میں جابز کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں تاہم اس سے قبل انہیں جرمن حکام کی جانب سے تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کی منظوری (Qualification Recognition) کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔
BEOE نے واضح کیا ہے کہ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کو جرمنی میں تسلیم کروائیں۔ اس منظوری کے بغیر ورک ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
اسناد کی منظوری کے عمل میں شامل ہے:
تعلیمی ڈگریوں اور ڈپلوموں کی تصدیق
پیشہ ورانہ تجربے کا جائزہ
جرمن زبان کی مہارت
یہ عمل پاکستانیوں کے لیے جرمنی میں جابز حاصل کرنے کے خواہشمند تمام افراد کے لیے لازمی ہے۔
جرمن زبان کی شرط
زیادہ تر اسامیوں خصوصاً نرسنگ سے متعلق جابز کے لیے جرمن زبان میں کم از کم B2 لیول یا اس سے زیادہ مہارت درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی امیدوار معیار پر پورا نہ اترے تو جرمن حکام اس سے درج ذیل تقاضے کر سکتے ہیں:
تربیت مکمل کرنا
مساواتی یا مہارت پر مبنی امتحانات پاس کرنا
یہ تمام تقاضے جرمنی کے پیشہ ورانہ معیار کے نظام کا حصہ ہیں۔
BEOE نے سختی سے وضاحت کی ہے کہ وہ:
کسی قسم کی فیس وصول نہیں کرتا
جرمنی کے لیے بھرتی یا لائسنسنگ ایجنٹ کی ضرورت نہیں ہے
درخواست دہندگان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ غیر مستند ایجنٹس اور فراڈ کنسلٹنٹس سے ہوشیار رہیں جو پاکستانیوں کی جانب سے جرمنی میں جابز دلوانے کے دعوے کرتے ہیں۔
امیدواروں کو چاہیے کہ وہ صرف سرکاری ویب سائٹس سے معلومات حاصل کریں جہاں مستند اور درست تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں۔ کن شعبوں میں جابز ہیں اور اسناد کی منظوری کا طریقہ جرمن حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے۔
جرمنی میں ہنرمند افراد کی بڑھتی ہوئی طلب پاکستانیوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے جس کے ذریعے وہ بین الاقوامی کیریئر، بہتر آمدن اور عالمی تجربہ حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ تمام مراحل قانونی اور سرکاری طریقہ کے تحت مکمل کریں۔






