بینک مکرمہ لمیٹڈ نے اپنی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے بڑا بینک مکرمہ ری اسٹرکچرنگ پلان متعارف کرا دیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلات پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو بھیجی گئی رپورٹ میں سامنے آئیں۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایسے اقدامات کی منظوری دی ہے جن میں اسپانسر کی شیئر ہولڈنگ کم کرنا اور واجب الادا ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس (TFCs) کو شیئرز میں تبدیل کرنا شامل ہے تاکہ بینک کا سرمایہ مضبوط ہو سکے۔
اسپانسر شیئر ہولڈنگ میں کمی کی تجویز
اس سے پہلے اسپانسر کے پاس تقریباً 86 کروڑ 11 لاکھ شیئرز تھے جو بینک کے ادا شدہ سرمائے کا 86.1 فیصد بنتے تھے۔ یہ شیئرز پہلے ری اسٹرکچرنگ اسکیم کے تحت 2.14 روپے فی شیئر پر جاری کیے گئے تھے۔
نئے منصوبے کے تحت ان شیئرز کو 6.25 روپے فی شیئر پر جاری شدہ تصور کیا جائے گا، جس کے بعد اسپانسر کا حصہ کم ہو کر تقریباً 75.8 فیصد رہ جائے گا۔
اضافی شیئرز کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے منظوری کے بعد باقی شیئر ہولڈرز میں بلا معاوضہ تقسیم کیا جائے گا۔
3.35 ارب روپے کے TFCs شیئرز میں تبدیل ہوں گے
بینک نے 2018 سے واجب الادا TFC ادائیگیوں کا مسئلہ بھی حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو مالی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے رکی ہوئی تھیں۔
اس منصوبے کے تحت 3 ارب 35 کروڑ روپے کے TFCs کو ایکویٹی میں بدلا جائے گا، جن میں 1.49 ارب روپے اصل رقم اور 1.85 ارب روپے منافع شامل ہیں جو 31 دسمبر 2025 تک جمع ہو چکا ہے۔
TFC ہولڈرز کو 6.25 روپے فی شیئر کے حساب سے مکمل ادا شدہ شیئرز دیے جائیں گے جس سے بینک کے سرمائے میں اضافہ ہوگا۔
بینک مکرمہ ری اسٹرکچرنگ کا مقصد کیا ہے؟
بینک مکرمہ کے مطابق یہ ری اسٹرکچرنگ پلان بینک کے کیپیٹل بیس کو مضبوط بنانے، پرانے واجبات ختم کرنے اور مستقبل میں شیئر ہولڈرز کی ویلیو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ قدم سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور بینک کے مالی استحکام کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔






