پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں خواتین کاروباری حضرات (Entrepreneurs) اور ہنرمند کارکنوں کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ایک بڑے اقدام کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن (PSIC) اگلے دو ماہ میں خواتین کے لیے ایک نئی بلا سود قرض اسکیم (Interest-Free Loan Scheme) شروع کرے گی۔
یہ اقدام خواتین کے لیے خاص طور پر چھوٹے شہروں میں مالی رکاوٹوں کو دور کرنے اور قومی معیشت میں ان کی فعال شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
پنجاب بلا سود قرض اسکیم کی اہم خصوصیات
| خصوصیت | تفصیل |
| قرض کی رقم | 5 لاکھ روپے تک |
| شرح سود | 0% (بلا سود) |
| عملدرآمد کرنے والا ادارہ | پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن (PSIC) |
| لانچ کا وقت | اپریل 2026 تک متوقع (اگلے 2 ماہ میں) |
| مقصد | نیا کاروبار شروع کرنا یا موجودہ کاروبار کو بڑھانا |
بلا سود قرض اسکیم 2026 اہلیت کا معیار
وزیر کے اعلان کے مطابق اس اسکیم کا ہدف خاص طور پر خواتین کے دو اہم گروپس ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فنڈز ان تک پہنچیں جو مہارت اور تربیت رکھتی ہیں:
ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹرز کی گریجویٹس: وہ خواتین جنہوں نے حکومت کے منظور شدہ مراکز سے ٹریننگ یا انکیوبیشن پروگرام مکمل کیے ہیں۔
ہنرمند خواتین (Skilled Artisans): وہ خواتین جو مخصوص تکنیکی مہارت یا دستکاری میں مہارت رکھتی ہیں لیکن اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمائے کی کمی کا شکار ہیں۔
علاقائی توجہ: اگرچہ یہ اسکیم پورے صوبے کے لیے ہے لیکن حکومت نے چھوٹے شہروں میں خواتین انٹرپرینیورز کی مدد پر خصوصی زور دیا ہے۔
پنجاب بلا سود قرض اسکیم 2026 کے لیے اپلائی کیسے کریں؟
چونکہ یہ اسکیم اگلے دو ماہ میں باضابطہ طور پر شروع ہونے والی ہے اس لیے تفصیلی درخواست فارم اور آن لائن پورٹلز ابھی جاری نہیں کیے گئے۔ تاہم اعلان کی بنیاد پر توقع ہے کہ طریقہ کار اس طرح ہوگا:
پہلا مرحلہ (رجسٹریشن): درخواست دہندگان کو پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن (PSIC) یا اپنے مقامی ویمن بزنس انکیوبیشن سینٹر میں رجسٹر ہونے کی ضرورت ہوگی۔
دوسرا مرحلہ (مہارت کا ثبوت): امیدواروں کو انکیوبیشن سینٹر سے گریجویشن کا سرٹیفکیٹ یا اپنی تکنیکی مہارتوں کا ثبوت (ہنرمند خواتین کے لیے) جمع کروانا ہوگا۔تیسرا مرحلہ (بزنس پلان): درخواست دہندگان کو ایک بنیادی تجویز (Proposal) جمع کروانی پڑ سکتی ہے کہ وہ 5 لاکھ روپے کیسے استعمال کریں گی (مثلاً مشینری خریدنا، خام مال، یا دکان کا سیٹ اپ)۔






