جیسے ہی لاہور شہر بہار کے تہوار کی تیاری کر رہا ہے حکومت کے سرکاری منصوبوں کے حوالے سے عوام میں کچھ کنفیوژن پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ جی ہاں پنجاب حکومت نے بسنت فیسٹیول کی سرکاری افتتاحی تقریب منسوخ کر دی ہے۔
یہ عظیم الشان افتتاحی تقریب اصل میں 6 فروری 2026 کو شاہی قلعہ لاہور میں منعقد ہونا تھی جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عوام کے لیے پورا تہوار ہی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
ذیل میں حکومت کے فیصلے اس کی وجوہات کی مکمل تفصیلات دی گئی ہیں۔
سرکاری تقریب کیوں منسوخ کی گئی؟
رپورٹس کے مطابق، حکام نے شاہی قلعہ میں ہونے والی سرکاری تقریب کو منسوخ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ایس او پیز (SOPs) پر سختی سے عمل درآمد کو ترجیح دی جا سکے۔ ایک بڑے پیمانے پر رسمی تقریب پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے حکومت اب اپنے وسائل کو جشن کے دوران شہر بھر میں حفاظت اور قوانین کی پاسداری یقینی بنانے پر مرکوز کر رہی ہے۔
کیا عوام کے لیے بسنت پر پابندی ہے؟
نہیں۔ منسوخی کا اطلاق سختی سے صرف سرکاری تقریب پر ہوتا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ عوام کو پتنگ بازی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حکومت کا کردار اب تقریب کی میزبانی سے ہٹ کر حفاظتی ضوابط (Safety Regulations) کو سختی سے نافذ کرنے پر مرکوز ہو گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
علامتی بسنت افتتاحی تقریب 2026
اگرچہ شاہی قلعہ میں مرکزی تقریب منسوخ ہو چکی ہے لیکن حکام اندرون لاہور میں ایک علامتی افتتاح (Symbolic Inauguration) پر غور کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ اس محدود پیمانے کی تقریب میں غیر ملکی مہمان اور اہم شخصیات شرکت کریں گی جو اس موقع پر پتنگ بازی کر کے تہوار کا آغاز کریں گی۔
بسنت 2026 کے لیے حفاظتی اقدامات
محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نے اہم احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں:
مانیٹرنگ کیمپس: شہر کی نگرانی کے لیے سیف سٹی ہیڈ کوارٹرز اور ڈسٹرکٹ کمشنر کے دفتر میں خصوصی مانیٹرنگ آفس قائم کیے جائیں گے۔
میڈیکل الرٹ: پتنگ بازی سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے لاہور کے 13 ہسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ بسنت منائیں اور حفاظتی ایس او پیز کو ذہن میں رکھیں تاکہ یہ تہوار سب کے لیے خوشی کا باعث بنے۔






