بابر اعظم کا آسٹریلیا کے بگ بیش لیگ (BBL) میں پہلا تجربہ پاکستان کے سب سے بڑے بیٹنگ اسٹار کے لیے ایک شاندار آغاز ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور وہ ایک غیر معمولی ریکارڈ کے ساتھ میدان چھوڑ کر گئے جو سیزن کی سب سے زیادہ زیر بحث کہانیوں میں سے ایک بن گیا۔
سڈنی سِکسرز کے مارکو کھلاڑی کے طور پر دستخط کرنے کے بعد توقعات بہت بلند تھیں۔ لیکن بابر اعظم کے بیٹنگ کے انداز نے اکثر سوالات پیدا کیے کہ کیا ان کی کلاسیکی بیٹنگ T20 فرنچائز کرکٹ کی تیز رفتار ضروریات کے مطابق ہے یا نہیں۔
بابر اعظم نے BBL میں کون سا غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا؟
BBL کے سینکڑوں بیٹنگ سیزنز میں عام طور پر وہی کھلاڑی یاد رکھے جاتے ہیں جنہوں نے 200 رنز یا اس سے زیادہ بنائے ہوں۔ لیکن بابر اعظم کا یہ ریکارڈ مختلف وجہ سے نمایاں ہوا۔
اپنے ڈیبیو سیزن میں بابر اعظم نے 11 میچز میں 202 رنز بنائے 196 گیندوں کا سامنا کیا اور اسٹریک ریت صرف 103 کے لگ بھگ رہی۔ اگرچہ دو نصف سنچریاں دکھنے میں اچھی لگتی ہیں لیکن ان کی بیٹنگ کی رفتار BBL کے تمام کھلاڑیوں میں سب سے کم رہی جنہوں نے 200 یا اس سے زیادہ رنز بنائے۔
اس ٹورنامنٹ میں جہاں بیٹسمینوں کا جائزہ تیز رفتاری سے لیا جاتا ہے بابر کی یہ کارکردگی ایک بحث کا موضوع بن گئی۔
مداح بابر کے انداز پر کیوں سوال اٹھانے لگے؟
BBL کے شائقین ابتدائی اوورز میں دھماکہ خیز بیٹنگ اور آخر کے اوورز میں جارحانہ شاٹس دیکھنے کے عادی ہیں۔ لیکن بابر اعظم کا یہ غیر معمولی ریکارڈ دکھاتا ہے کہ توقع اور حقیقت میں فرق تھا۔
11 میچز میں بابر نے صرف تین چھکے لگائے اور چھ مرتبہ ایک ہندسہ رنز پر آؤٹ ہوئے۔ وہ اکثر گیندوں کو روک کر کھیلتے نظر آئے، لیکن انہیں باؤنڈریز میں بدلنے میں دشواری ہوئی۔پاکستانی شائقین کے لیے یہ بات پہلے سے واقف تھی۔ بین الاقوامی T20 میں بھی ان کی سست بیٹنگ کی وجہ سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، اور BBL کا یہ تجربہ اس بحث کو عالمی سطح پر لے گیا۔
بابر اعظم نے BBL میں کون سا غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا؟
انہوں نے وہ ریکارڈ بنایا کہ BBL کے تمام کھلاڑیوں میں جنہوں نے 200 رنز بنائے ان میں سب سے کم رفتار سے رنز بنائے۔
شائقین بابر کے BBL سیزن پر کیوں بحث کر رہے ہیں؟
کیونکہ ان کی بیٹنگ کی رفتار اور جارحانہ انداز کی کمی نے سوالات پیدا کیے کہ آیا وہ تیز رفتار T20 لیگ کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔
کیا بابر اعظم پاکستان کے T20 منصوبوں سے باہر ہیں؟
نہیں، لیکن ان کی سٹرائیک ریٹ مستقبل کے ٹورنامنٹس کے لیے ایک بحث کا موضوع ہے۔
بابر اعظم نے سڈنی سِکسرز کیوں چھوڑ دیا؟
وہ پاکستان واپس گئے تاکہ آئندہ بین الاقوامی میچز کی تیاری میں شامل ہو سکیں۔






