پاکستان کے سب سے اہم انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک کا انتظار اب ختم ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے اعلان کے مطابق سکھر-حیدرآباد موٹروے (M-6) کی تعمیر باضابطہ طور پر مئی 2026 میں شروع ہوگی۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے اعلان کیا کہ یہ منصوبہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ منصوبے کو موثر اور پائیدار بنانے کے لیےسکھر-حیدرآباد اور کراچی موٹرویز دونوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت تعمیر کیا جائے گا۔
حکومت نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ڈیڈ لائن کو پورا کرنے کے لیے تمام سیکشنز پر کام بیک وقت شروع کیا جائے۔ یہ موٹروے پاکستان کے شمال اور جنوب کو ملانے والا آخری لنک ہے، اس لیے اس کی تکمیل قومی تجارت اور لاجسٹکس کے لیے انتہائی اہم ہے۔
سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے کی اپ گریڈیشن
وزیر نے سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے (M-12) کی مکمل اپ گریڈیشن کا بھی اعلان کیا۔ پہلے اسے چار لین کی ہائی وے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن اب اسے چھ لین کی موٹروے کے طور پر تعمیر کیا جائے گا تاکہ اگلے 30 سالوں کی ٹریفک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔اجلاس میں موٹروے نیٹ ورک کو کرتارپور جیسے مذہبی سیاحتی مقامات سے جوڑنے پر بھی بات کی گئی، اور سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے۔
ایم-6 موٹروے پروجیکٹ باضابطہ طور پر کب شروع ہوگا؟
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے اعلان کے مطابق سکھر-حیدرآباد موٹروے (M-6) کی تعمیر کا باضابطہ آغاز مئی 2026 میں کیا جائے گا۔
کیا ایم-6 موٹروے سرکاری فنڈز پر تعمیر کی جائے گی؟
نہیں، یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کی بنیاد پر تعمیر کیا جائے گا تاکہ منصوبے پر عملدرآمد موثر ہو اور اس کی تکمیل پائیدار رہے۔
کیا سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے؟
جی ہاں، کھاریاں-سیالکوٹ موٹروے (M-12) کو مستقبل کی ٹریفک کو مدنظر رکھتے ہوئے چھ لین کی موٹروے تک وسیع کر دیا گیا ہے۔
نئے موٹروے منصوبوں کا سیاحت پر کیا اثر پڑے گا؟
حکومت موٹروے نیٹ ورک کو کرتارپور جیسے مذہبی مقامات سے جوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ خطے میں مذہبی سیاحت اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔






