اسلام آباد: ایمان مزاری گرفتاری کے بعد سخت ردعمل سامنے آیا ہے جب ایک اینٹی ٹیررازم کورٹ نے سرگرم کارکن و وکیل ایمان زینب مزاری-حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو عدالتی حراست میں بھیج دیا، جس کے چند گھنٹوں بعد انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے قریب گرفتار کیا گیا۔
ایمان مزاری گرفتاری: سرگرم کارکن اور شوہر کو عدالتی حراست میں
یہ کیس IHC کے باہر احتجاج سے متعلق ہے جس میں جوڑے پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ بدتمیزی کا الزام ہے۔ سیکیورٹی کے پیش نظر سماعت سخت پولیس نگرانی میں ہوئی اور میڈیا اور وکلاء کو عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ گرفتاری سے پہلے جوڑا تین راتیں IHCBA دفتر میں رہا، کیونکہ وہ گرفتار ہونے کے خوف میں تھے۔ وہ ایک دوسرے کیس میں بھی ملوث ہیں، جو متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ہے جس میں ان کی ضمانت پہلے ہی منسوخ ہو چکی تھی۔
IHC کے باہر احتجاج: وکلاء کی ہڑتال اور عوامی ردعمل
مزاری اور چٹھہ نے پہلے چیف جسٹس IHC کے سامنے پیش ہونے کی کوشش کی مگر بعد میں ڈسٹرکٹ کورٹ جانے کے لیے بار ایسوسی ایشن کی گاڑی استعمال کی۔ پولیس نے سیرینا ہوٹل کے انڈر پاس کے قریب گاڑی روک کر انہیں گرفتار کر لیا۔ وکلاء کا الزام ہے کہ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور مزاری کے ساتھ سختی سے پیش آئی۔ گرفتاری کے بعد وکلاء نے احتجاج کیا اور ایمان کی والدہ، سابق وفاقی وزیر شیرین مزاری نے اس عمل کو غیر منصفانہ اور سیاسی قرار دیا۔






