فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے 2026 کے لیے ایف بی آر پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس میں نئی اپڈیٹس متعارف کرائی ہیں جس کا مقصد سرکاری ٹیکس ریٹس اور مارکیٹ کی اصل قیمتوں کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔ اگر آپ اس سال پاکستان میں پراپرٹی خریدنے، بیچنے یا رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے ٹیکس کی درست کٹوتی جاننے اور قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ان نئے ریٹس کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
حالیہ برسوں میں ایف بی آر نے رئیل اسٹیٹ کی معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے لیے لاہور، کراچی، اسلام آباد، اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں پراپرٹی کی قیمتوں پر مسلسل نظر ثانی کی ہے۔
2026 کے تازہ ترین ایف بی آر پراپرٹی ویلیوایشن کی اپڈیٹس اور خریداروں اور فروخت کنندگان پر ان کے اثرات کے بارے میں آپ کو جو کچھ جاننے کی ضرورت ہے وہ سب یہاں موجود ہے۔
ایف بی آر پراپرٹی ریٹس کو اپڈیٹ کیوں کرتا ہے؟
پاکستان میں رئیل اسٹیٹ پراپرٹیز کی عام طور پر تین مختلف قیمتیں ہوتی ہیں:
مارکیٹ ویلیو (Market Value): وہ اصل قیمت جس پر پراپرٹی خریدی یا بیچی جاتی ہے۔
ڈی سی ریٹ (DC Rate): صوبائی حکومت کی جانب سے اسٹامپ ڈیوٹی اور مقامی ٹیکس کے لیے مقرر کردہ سب سے کم سرکاری ریٹ۔
ایف بی آر ریٹ (FBR Rate): وفاقی ٹیکسز جیسے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس (WHT) اور کیپٹل گینز ٹیکس (CGT) کے حساب کتاب کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے مقرر کردہ قیمت۔
2026 میں ایف بی آر ویلیوایشن ریٹس میں اضافے کے ذریعے حکومت کا مقصد پراپرٹیز کی دستاویزی (سرکاری) قیمت کو ان کی اصل مارکیٹ ویلیو کے قریب لانا ہے تاکہ ٹیکس چوری اور کالے دھن کی سرمایہ کاری کو روکا جا سکے۔
2026 میں متوقع بڑی تبدیلیاں
ویلیوایشن کی ان تازہ ترین اپڈیٹس سے سرمایہ کاروں کے لیے نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں:
بڑے شہروں میں ریٹس میں اضافہ: اسلام آباد (ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن)، لاہور اور کراچی کے انتہائی ڈیمانڈ والے کمرشل اور رہائشی علاقوں میں فی مرلہ اور فی مربع فٹ ریٹس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
نئے شہروں کی شمولیت: ایف بی آر نے اپنے ویلیوایشن نیٹ ورک کو مزید وسعت دی ہے تاکہ پاکستان بھر کے مزید ٹئیر-2 اور ٹئیر-3 شہروں کو اس میں شامل کیا جا سکے۔
نان فائلرز کے لیے بھاری جرمانے (ٹیکس): دستاویزی معیشت سے باہر رہنے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ایکٹو ٹیکس پیئرز (فائلرز) اور نان فائلرز کے درمیان ٹیکس کی شرح کا فرق مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
FBR cuts Islamabad property valuation rates by up to 50pchttps://t.co/2JxuIJzjWg#FBR #property pic.twitter.com/qkl1okA0La
— The_Nation (@The_Nation) February 3, 2026
ٹیکس پر اثرات: فائلر بمقابلہ نان فائلر (2026)
جب بھی کوئی پراپرٹی ٹرانسفر ہوتی ہے خریدار اور بیچنے والے کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236C (بیچنے والوں کے لیے) اور 236K (خریداروں کے لیے) کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس (WHT) ادا کرنا ہوتا ہے۔
یہ ٹیکسز ڈی سی ریٹ کے بجائے نئے اپڈیٹ شدہ ایف بی آر پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔ فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان واضح فرق ذیل میں دیا گیا ہے:
| ٹیکس کی قسم | ایکٹو ٹیکس پیئر (فائلر) | نان فائلر |
| ود ہولڈنگ ٹیکس (خریداری پر) | ایف بی آر ویلیو کا 3% | ایف بی آر ویلیو کا 10% تک |
| ود ہولڈنگ ٹیکس (فروخت پر) | ایف بی آر ویلیو کا 3% | ایف بی آر ویلیو کا 10% تک |
| کیپٹل گینز ٹیکس (CGT) | 15% (پراپرٹی رکھنے کے دورانیے پر منحصر) | بغیر کسی چھوٹ کے فلیٹ ریٹ |
ایف بی آر پراپرٹی ویلیوایشن ریٹس 2026 آن لائن کیسے چیک کریں؟
اپنی پراپرٹی کی سرکاری قیمت معلوم کرنے کے لیے آپ کو کسی ٹیکس آفس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ان آسان اقدامات پر عمل کر کے آن لائن ریٹس چیک کر سکتے ہیں:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آفیشل ویب سائٹ www.fbr.gov.pk پر جائیں۔
ہوم پیج پر نیچے سکرول کریں اور "Property Valuation” (پراپرٹی ویلیوایشن) کے ٹیب پر کلک کریں۔
شہروں کی ایک فہرست ظاہر ہوگی۔ اپنے متعلقہ شہر (جیسے ملتان، لاہور، کراچی) پر کلک کریں۔
پی ڈی ایف (PDF) نوٹیفکیشن ڈاؤن لوڈ کریں۔
رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کے فی مرلہ یا فی مربع گز ایف بی آر ریٹ دیکھنے کے لیے اپنی مخصوص سوسائٹی، سیکٹر، یا روڈ کا نام سرچ کریں۔
ڈی سی ریٹ اور ایف بی آر ریٹ میں کیا فرق ہے؟
ڈی سی ریٹ صوبائی حکومت کی جانب سے اسٹامپ ڈیوٹی اور سی وی ٹی (CVT) وصول کرنے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ جبکہ ایف بی آر ریٹ وفاقی حکومت کی جانب سے کیپٹل گینز ٹیکس (CGT) اور ود ہولڈنگ ٹیکس (WHT) وصول کرنے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ ایف بی آر ریٹس عموماً ڈی سی ریٹس سے زیادہ ہوتے ہیں۔
اگر میں نے 2026 سے پہلے پراپرٹی خریدی تھی، تو کیا اس پر بھی ایف بی آر ریٹس لاگو ہوں گے؟
ایف بی آر ریٹس پراپرٹی کی ٹرانسفر یا فروخت کے عین وقت پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگر آپ 2026 میں اپنی پراپرٹی فروخت کرتے ہیں تو کیپٹل گینز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کا حساب 2026 کے موجودہ ایف بی آر ریٹس کے مطابق کیا جائے گا۔
کیا ایک نان فائلر 2026 میں پاکستان میں پراپرٹی خرید سکتا ہے؟
جی ہاں، نان فائلرز پراپرٹی خرید سکتے ہیں، لیکن انہیں ایکٹو ٹیکس پیئرز (فائلرز) کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک زیادہ ایڈوانس ٹیکس (10% تک یا اس سے زیادہ) ادا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سرمایہ کاری بہت زیادہ مہنگی ہو جاتی ہے۔






