وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) نے باضابطہ طور پر Indus AI Week 2026 کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے "ڈیجیٹل پاکستان ویژن” کے تحت ہونے والے اس میگا ایونٹ کا مقصد پاکستان کو مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے عالمی ماحولیاتی نظام میں ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر منوانا ہے۔
یہاں اس ہفتہ وار پروگرام کے شیڈول، مقام اور اہم پروگراموں کی مکمل تفصیلات دی گئی ہیں۔
انڈس اے آئی ویک 2026: تاریخیں اور مقام
یہ ایونٹ ایک ہفتے پر محیط ہوگا جس میں عالمی ٹیک کمپنیاں، پالیسی ساز، ماہرین تعلیم اور اسٹارٹ اپ کمیونٹی شرکت کرے گی۔
| تفصیل | معلومات |
| ایونٹ کا دورانیہ | ایک ہفتہ |
| آغاز کی تاریخ | 9 فروری 2026 |
| اختتام کی تاریخ | 15 فروری 2026 |
| مرکزی سمٹ کا مقام | جناح کنونشن سینٹر، اسلام آباد |
| شرکاء | عالمی ٹیک کمپنیاں، پالیسی ساز، تعلیمی ماہرین، اسٹارٹ اپس |
انڈس اے آئی ویک 2026 کے اہم پروگرام
اس ہفتے کے دوران کئی فلیگ شپ پروگرامز منعقد کیے جائیں گے جن کا مقصد اے آئی (AI) کے عملی نفاذ کو فروغ دینا ہے۔
| پروگرام کا نام | مقصد / تفصیل |
| AI for HER | اے آئی اکانومی میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینا اور انہیں بااختیار بنانا۔ |
| اُڑان اے آئی ٹیکاتھون 1.0 | مقابلے اور جدت کے ذریعے پاکستان میں اے آئی کے ممکنہ اثرات کو حقیقی دنیا میں لاگو کرنا۔ |
| GovTech & DefenceTech | اے آئی پر مبنی حکمرانی اور دفاعی ٹیکنالوجی کے حل کو اجاگر کرنا۔ |
| E-Sports & Gaming | گیمنگ کو ڈیجیٹل ایکسپورٹ کی ایک اعلیٰ ویلیو انڈسٹری کے طور پر پیش کرنا۔ |
| نیشنل اے آئی ٹریننگ بوٹ کیمپ | افرادی قوت کی تربیت اور اے آئی کی مہارتوں (Skills) کو فروغ دینا۔ |
| AR/VR & Robotics | روبوٹکس اور ایمرسیو ٹیک (Immersive Tech) کے صنعتی استعمال اور ٹریننگ ماڈلز کی نمائش۔ |
| انڈسٹری ایکسپو (Industry Expo) | موقع پر انٹرویوز کا اہتمام تاکہ ہنرمند ٹیلنٹ کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔ |
قیادت کا ویژن اور پیغامات
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت اب محض بات چیت سے آگے بڑھ کر "عملی نفاذ” (Tangible adoption) کی طرف جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سالانہ 25,000 آئی ٹی گریجویٹس پیدا کرتا ہے اور انہیں عالمی لیڈرز کے ساتھ جوڑ کر ہم ایک پائیدار ایکو سسٹم بنا رہے ہیں۔پاشا (P@SHA) کے سابق چیئرمین جناب محمد زہیب خان نے اس اقدام کو پرائیویٹ سیکٹر کے لیے ایک بڑا سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان "Generative AI” اور "Deep Tech” میں اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ پاکستان صرف ایک "بیک آفس” نہیں بلکہ اعلیٰ معیار کی "AI R&D” کا مرکز ہے۔






