ملتان برصغیر کا قدیم ترین شہر ہے جسے "اولیاء کا شہر” کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے یہ شہر روحانیت، مذہب، ثقافت اور تاریخ کا مرکز رہا ہے۔ یہاں بے شمار صوفیاء کرام، اولیاء اللہ اور بزرگوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کیں۔ ان بزرگوں کے مزارات آج بھی دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے مرکزِ عقیدت ہیں۔ یہ مزارات نہ صرف روحانی سکون فراہم کرتے ہیں بلکہ اسلامی فنِ تعمیر اور صوفیانہ روایات کا بہترین عکس بھی پیش کرتے ہیں۔
ذیل میں ہم ملتان کے 12 اہم اور مشہور مزارات کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔
حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ
حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ سلسلہ سہروردیہ کے عظیم بزرگ تھے۔
آپ نے 12ویں اور 13ویں صدی میں ملتان کو روحانیت کا مرکز بنایا۔
آپ کے مزار کا فن تعمیر مغل اور سہروردی طرز کی جھلک پیش کرتا ہے۔
لاکھوں عقیدت مند ہر سال یہاں حاضری دیتے ہیں اور فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
حضرت شاہ رکنِ عالمؒ
حضرت شاہ رکنِ عالمؒ حضرت بہاؤ الدین زکریا کے پوتے تھے۔
آپ کا مزار قلعہ کہنہ قاسم باغ کے اندر واقع ہے۔
اس مزار کو جنوبی ایشیا میں فن تعمیر کی شاہکار عمارت سمجھا جاتا ہے۔
یورپی ماہرین فنون نے بھی اس مزار کی خوبصورتی کو تسلیم کیا ہے۔
حضرت شاہ شمس تبریزؒ
حضرت شاہ شمس تبریزؒ کو ملتان میں اسلام کے فروغ اور روحانی تعلیمات کے حوالے سے خاص مقام حاصل ہے
آپ کا مزار شاہ رکنِ عالم کے قریب واقع ہے۔
ہر سال آپ کے عرس پر ہزاروں زائرین شرکت کرتے ہیں۔
حضرت شاہ جمالؒ
حضرت شاہ جمالؒ ایک عظیم صوفی بزرگ اور مصلح تھے۔
آپ نے عوام کو محبت، رواداری اور قربانی کا درس دیا۔
آپ کا مزار بھی ملتان کی روحانی فضا کو مزید جاذبِ نظر بناتا ہے۔
حضرت سید احمد سعید کاظمیؒ
حضرت سید احمد سعید کاظمیؒ 20ویں صدی کے عظیم عالم دین اور روحانی شخصیت تھے۔
آپ نے ملتان میں درس و تدریس، دینی تبلیغ اور علمی خدمات سر انجام دیں۔
آپ کے مزار پر آج بھی علما، طلبا اور زائرین عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔
حضرت موسیٰ پاک شہیدؒ
حضرت موسیٰ پاک شہیدؒ حضرت شاہ رکن عالم کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
آپ نے اسلام کی سربلندی اور حق کے پیغام کی خاطر قربانی دی۔
آپ کا مزار ملتان کی تاریخ اور روحانیت میں منفرد اہمیت رکھتا ہے۔
حضرت یوسف گردیزیؒ
حضرت یوسف گردیزیؒ کو ملتان میں اسلام کی اشاعت کرنے والوں میں پیش رو سمجھا جاتا ہے۔
آپ کا مزار شاہی طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔
ہر سال بڑی تعداد میں عقیدت مند آپ کے دربار پر حاضری دیتے ہیں۔
حضرت شاہ حسین صدو زئیؒ
حضرت شاہ حسین صدو زئیؒ ایک معروف صوفی بزرگ تھے۔
آپ نے اپنے دور میں عوام کو روحانی سکون اور دینِ اسلام کی روشنی فراہم کی۔
آپ کا مزار عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیض ہے۔
حضرت برہان الدینؒ
حضرت برہان الدینؒ بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ کے خلفاء میں سے تھے۔
آپ نے روحانیت اور اصلاحِ معاشرہ میں نمایاں خدمات سر انجام دیں۔
آپ کا مزار آج بھی زائرین کو سکون قلب عطا کرتا ہے۔
مخدوم عبدالرشید حقانیؒ
آپ ایک جلیل القدر عالم اور صوفی بزرگ تھے۔
آپ نے اپنے مریدین کو تقویٰ، پرہیزگاری اور اللہ کی محبت کا درس دیا۔
آپ کے مزار پر آج بھی ہزاروں لوگ فیض حاصل کرنے آتے ہیں۔
حضرت شیر شاہ سیدؒ
حضرت شیر شاہ سیدؒ ایک جید عالم اور بزرگ تھے جنہوں نے ملتان میں دین کی خدمت کی۔
آپ کے مزار پر سادہ مگر پر سکون ماحول پایا جاتا ہے۔
آپ کے ماننے والے آپ کو عاجزی اور عبادت میں اعلیٰ مقام کا حامل مانتے ہیں۔
حضرت شاہ علی اکبرؒ
حضرت شاہ علی اکبرؒ حضرت شاہ رکن عالم کے پوتے تھے۔
آپ سلسلہ سہروردیہ کے روحانی پیشوا تھے۔
آپ کی تعلیمات صوفیانہ طرزِ فکر اور انسانیت کی خدمت پر مبنی تھیں۔
آپ کا مزار بھی زائرین کے لیے ایک روحانی پناہ گاہ ہے۔
ملتان کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت ان مزارات کی موجودگی سے بخوبی واضح ہے۔ ہر مزار اپنے اندر ایک تاریخ، ثقافت اور روحانی پیغام سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کے مزارات نہ صرف اہلِ ملتان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایمان و عقیدت کا مرکز ہیں۔ ان کی زیارت کرنے سے انسان کے دل کو سکون ملتا ہے اور وہ روحانی طور پر مالامال ہوتا ہے۔