متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹرز کی کورونا وائرس کے علاج میں بڑی پیش رفت، ابتدائی ٹرائلز بھی کامیاب ہو گئے

مئی 02 2020: (جنرل رپورٹر) متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹرز کی کورونا وائرس کے علاج میں بڑی پیش رفت، ابتدائی ٹرائلز بھی کامیاب ہو گئے

تفصیلات کے مطابق وزارت اقتصادیات کی طرف سے کورونا وائرس کے علاج کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے- یہ علاج اسٹیم سیلز کے استعمال سے کیا جائے گا

زرائع کے مطابق کورونا وائرس کی یہ ویکسین ابوظہبی اسٹیم سینٹر کے ڈاکٹرز اور محققین کی ایک ٹیم نے دریافت کی ہے جس میں مریض اپنے خون سے اسٹیم سیلز کو نکالتا ہے اور اس کو چالو کرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرتا ہے- یہ ویکسین جدید طریقہ سے تیار کی گئی ہے جس میں خلیوں کو جمع کیا جاتا ہے

کورونا وائرس کے اس طریقہ علاج کو متحدہ عرب امارات میں کورونا کے مریضوں پر آزمایا گیا ہے جو کہ کامیاب ہو چکا ہے اور کسی بھی مریض کو اس ویکسین سے نقصان نہیں ہوا بلکہ وہ مریض صحتیاب ہو گئے ہیں- یہ ایک بہت بڑی ہیش رفت ہے جو متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹرز اور محققین کی طرف سے لی گئی ہے

اس طریقہ علاج کے زریعے پھیپھڑوں کے خلیوں کو دوبارہ تخلیق کیا جاتا ہے اور کورونا وائرس سے بچانے کے لئے مدافعاتی نظام میں بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں جس سے مریض صحتیاب ہو جاتا ہے

کورونا وائرس کے اس علاج کا تجربہ مختلف کلینکس میں کامیابی سے ہو چکا ہے

زرائع کا کہنا ہے کہ جن مریضوں پر اس کا تجربہ کیا گیا ان میں سے کسی کو بھی منفی اثر نہیں ہوا ہے تاہم علاج کے طریقہ میں مزید پختگی کے لئے مزید ٹرائلز کئے جا رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ دو ہفتےتک ٹرائلز کا یہ عمل مکمل ہو جائے گا

یہ حکومت متحدہ عرب امارات اور عوام کے پرعزم مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے تاکہ اس وباء سے نکل سکیں- طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ وہ احتیاطیں ضروری ہیں جن سے کورونا وائرس سے بچا جا سکتا ہے جیسے سماجی فاصلہ رکھنا اور گھر میں رہنا- مشہور مقولہ ہے دوا سے احتیاط بہتر ہے

یاد رہے کہ کورونا وائرس کے اس علاج کو ابوظہبی ازٹیم سیلز سینٹر کے ڈاکٹرز نے دریافت کیا ہے جو کہ ایک ہیلتھ کئیر سینٹر ہے جو خلیوں کی تھراپی, نئی ادویات اور اسٹیم سیلز پر جدید تحقیق کا کام کرتا ہے

یاد رہے کہ اب تک کورونا وائرس کی کوئی ویکسن کسی بھی ملک کی طرف سے دریافت ہو پبلک کلینکس میں نہیں آئی ہے تاہم مًتلف ممالک کی جانب سے اس پر کام جاری ہے اور کئی ممالک ٹرائلز پر بھی کام کر رہے ہیں- اس متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسن کو پبلک کلینکس میں آنے کے لئے تقریبا ایک سال کا وقت لگ جائے گا تاہم یہ ایک رائے ہے جس سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے- متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹرز کی طرف سے کورونا وائرس کے علاج پر کامیاب ٹرائلز ہونا ایک بڑی پیش رفت ہے

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

سبسکرائب
کو مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
آپ اس متعلق کیا کہتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ کریںx
()
x