متحدہ عرب امارات میں موجود پاکستانیوں کو الفجیرہ بندرگاہ سے لکڑی کی کشتیوں کے ذریعے کراچی بندرگاہ پر بھیجنے کی تیاری

دوبئی (ذرائع) کے مطابق کرونا وائرس کی عالمی وباء کی پُھوٹ کے نتیجے میں یو اے ای میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی اپنے گھروں میں والپس پلٹنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ فی الحال حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی واپسی کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔ تاہم ذرائع کے مطابق یو اے ای حکومت نے ان پاکستانیوں کو الفجیرہ بندرگاہ سے لکڑی کی کشتیوں کے ذریعے وطن واپس بھیجنے کا عندیہ دے دیا ہے۔  

گذشتہ دنوں میں (ریوٹر) کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے وطن واپسی کے لئے اپنے قونصل خانے سے رابطہ کر کے اندراج کروایا۔ پاکستان واپسی کے خواہشمند افراد میں زیادہ تر اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کئی افراد کے تو ویزے بھی زائدالمیعاد ہو چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں جاری لاک ڈاؤن، کرفیو، پروازوں کی معطلی اور دیگر پابندیوں نے ان پاکساتنیوں کی زندگیاں مزید مشکل بنا دی ہیں۔

گو کہ پاکستانی حکومتی ترجمان نے بتایا کہ وہ امارات کے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور پاکستانیوں کے انخلاء کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن اس ضمن میں ابھی تک کوئی خصوصی کاوش منظرِ عام پر نہیں آئی۔ اسی سوال کے جواب پر متحدہ عرب امارات کے حکومتی عہدیداروں نے کوئی جواب نہ دیتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ لگتا تو یہ ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وطن واپسی کی یہ موہوم سی امید پاکستانیوں کے لئے کسی بڑی خوشخبری سے کم نہیں ہے تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ اسی اثناء میں اربابِ اختیار کوئی خصوصی کاوش کر کے ان کی وطن واپسی کے لئے فضائی پروازوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔