فوج نے سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزام کو مستردکر دیا

) فوج نے اپوزیشن کی جانب سے سیاسی معاملات میں دخل اندازی کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی طرف سے فوجی ہیڈکوارٹر راولپنڈی مارچ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ 

فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پیر کو ایک  ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے راولپنڈی آنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہے۔ اگر وہ کبھی آتے ہیں تو ہم انھیں چائے پانی پلائیں گے۔ ہم ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں گے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے یکم جنوری کو رائے ونڈ میں 10 جماعتی اتحاد کے اجلاس کے بعد اشارہ کیا تھا کہ منصوبہ بند لانگ مارچ کو راولپنڈی بھیجا جاسکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں | پاکستان میں غائب، مکمل بلیک آؤٹ، لیکن کیوں؟

یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں حال ہی میں 2018 کے عام انتخابات میں ہیرا پھیری کرکے وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار میں لانے اور بعد میں سویلین حکمرانی کے خاتمے کے ذریعہ حکمرانی کو متاثر کرنے کے الزام میں فوج پر اپنی تنقید کے نشتر چلا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم خان 31 جنوری تک استعفی دیں ورنہ وہ ان کے عہدے سے دستبرداری کیلئے لانگ مارچ کریں گے۔ 

فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسس پبلک ریلیشنس (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل افتخار نے کہا کہ فوج سے متعلق حزب اختلاف کے الزامات میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انہوں ن 2018 کے انتخابات میں جوڑ توڑ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فوج سے انتخابی مشق کی حمایت کرنے کے لئے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ انتخابات کروائے۔

اگر کسی کو کوئی شک ہے تو قومی ادارے کام کر رہے ہیں ، ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے اور وہ فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 

اس تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میجر جنرل افتخار نے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو سیاسی میدان میں اترنے کی ضرورت نہیں ہے  اور نہ ہی اس میں گھسیٹا جانا چاہئے۔ فوج ان الزامات کو فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھتی ہے۔

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

سبسکرائب
کو مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
آپ اس متعلق کیا کہتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ کریںx
()
x