سیالکوٹ واقعہ: وزیر اعظم سمیت مذہبی شخصیات کی مذمت اور سخت رد عمل

 سیالکوٹ سیالکوٹ

پاکستان کے سیالکوٹ میں مبینہ توہین رسالت کے الزام میں ایک سری لنکن شخص کے قتل کے بعد، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر  اس حملے کی تحقیقات کی نگرانی کریں گے جسے انہوں نے “پاکستان کے لیے شرم کا دن” بھی قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ایک ہجوم نے راجکو فیکٹری کے غیر ملکی مینیجر کی لاش کو جلانے سے پہلے تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

 ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، نجی فیکٹری راجکو کے کارکنوں نے فیکٹری کے ایکسپورٹ مینیجر پر حملہ کیا اور اسے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا دیا۔ 

یہ بھی پڑھیں | پچاس سال کے بعد بہترین کھانے عادت کون سی ہے؟ جانئے طبی حکماء سے   

 ٹویٹر پر عمران خان نے لکھا کہ سیالکوٹ میں فیکٹری پر  حملہ اور سری لنکن مینیجر کو زندہ جلانا پاکستان کے لیے شرمناک دن ہے۔ میں تحقیقات کی خود نگرانی کر رہا ہوں اور تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔ قانون کی پوری شدت سے گرفتاریاں جاری ہیں۔

 سری لنکا کی وزارت خارجہ نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آزادانہ تحقیقات پر زور دیا ہے۔ 

  اب تک 100 کے قریب افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ واقعہ وزیر آباد روڈ کے علاقے نول موڑ میں پیش آیا۔ 

 انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی کئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اس مقام پر کئی مرد جمع ہیں۔ 

اس واقعے کی تمام  سیاسی و مذہبی شخصیات نے مذمت کی ہے۔ مفتی منیب الرحمن مفتی تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل سمیت مذہبی سیاسی جماعتوں تحریک لبیک ہاکستان، جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام ف نے بھی سخت مذمت کی ہے۔

ان تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور رہنماوں نے ملزمان کو سخت سزا دینے اور آزاشانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

حرمین رضا

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

ہمارا نیوز لیٹر جوائن کریں
تازہ ترین آرٹیکلز، نوکریوں اور تفریحی خبریں ڈائریکٹ اپنے انباکس میں حاصل کریں
یہاں ایک لاکھ ستر ہزار سبسکرائبرز ہیں