سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی انتقال کر گئے

سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی گزشتہ روز بدھ کو انتقال کر گئے ہیں۔  سینیٹر ثناء جمالی نے تصدیق کر دی ہے۔

 اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعظم پچھلے تین چار دن سے شدید علیل تھے اور وینٹیلیٹر پر تھے۔ سابق وزیر اعظم کی بھانجی ثناء جمالی نے تصدیق کی کہ راولپنڈی کے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) میں گذشتہ دو روز سے ان کا علاج چل رہا تھا۔ 

میر ظفر اللہ جمالی یکم جنوری 1944 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ضلع نصیرآباد کے روجھان علاقے سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1970 میں کیا تھا اور 1977 کے عام انتخابات کے بعد ، پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے ایم پی اے بنے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنے سے پہلے مری کے لارنس کالج اور لاہور کے گورنمنٹ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے تین بار ، اگرچہ مختصر طور پر ، وزیر اعلی بلوچستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

فوجی آمر جنرل (ریٹائرڈ) ضیاء الحق کے دور حکومت میں ظفر اللہ جمالی کو وزیر مملکت مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے سیاسی کیریئر کا اعلی مقام 2002 میں آیا جب 23 نومبر 2002 کو ، وہ پاکستان کے 13 ویں وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہوئے۔ 

یہ بھی پڑھیں | میری صرف پاکستان میں ایک پراپرٹی ہے، بی بی سی انٹرویو میں اسحاق ڈار کا بیان

سابق وزیر اعظم بلوچستان کے پہلے شخص تھے جو ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوے تھے۔ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

 جب ان کی موت کی خبر وائرل ہوئی لوگوں نے اظہار تعزیت کے لئے سوشل میڈیا پر پیغامات شائع کئے۔ سوشل میڈیا پر ان کے مخلتف کلپس زیر گردش ہے جس میں ن لیگ دور کے اندر ختم نبوت معاملے میں ان کا استعفی دینا شامل ہے جس پر انہیں تحریک لبیک کے مرحوم امیر مولانا خادم حسین رضوی کی جانب سے بھی سراہا گیا تھا اور ان کے حق میں تعریفی کلمات کہے تھے۔

سابق وزیر اعظم کی وفات پر مختلف سماجی و سیاسی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔