Skip to main content

اردو خبر

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users
urdu_khabar_logo
Menu
  • قومی نیوز
  • سیاست کی خبریں
  • کھیل کی خبریں
    • کرکٹ نیوز
  • بزنس کی خبریں
    • معیشت کی خبریں
    • ٹیکنالوجی
  • تفریح
    • فلمیں انڈسٹری نیوز
    • موسیقی
  • بین الاقوامی
  • علاقائی خبریں
  • لائف سٹائل نیوز
    • صحت
    • سفر

امریکا میں کمپیوٹر چپ کو جانور کے دماغ کے ساتھ جوڑنے کا مظاہرہ

بلال رشید by بلال رشید
اگست 31, 2020
in ٹیکنالوجی نیوز اردو – موبائل، انٹرنیٹ، AI اور جدید ٹیک اپ ڈیٹس
کمپیوٹر-چپ-کو-جانور-کے-دماغ-میں-ڈالنے-کا-تجربہ

امریکا میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر مشتمل ایک امریکی کمپنی کی جانب سے کمپیوٹر چپ کو جانوروں کے دماغ کے ساتھ جوڑنے کا کامیاب مظاہرہ کیا گیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق امریکی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے طانی ایلون مسک نے اپنی ایک نئی کمپنی نیورا لنک کے زریعے یہ کمپیوٹر چپ تیار کی اور پھر اس کو جانوروں جے دماغ سے جوڑنے کا کامیاب مظاہرہ بھی اسی کمپنی کی جانب سے کیا گیا۔ 

زرائع کے مطابق کمپنی کی جانب سے یی دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس چپ کے زریعے سے فالج، جوڑوں کے درد، ڈپریشن اور ریڈھ کی ہڈی سمیت بہت سی دماغی اور اعصابی بیماریوں کا علاج کرنا ممکن ہو سکے گا۔ 

انہوں نے بتایا کہ یہ کمپیوٹر چپ ایک چھوٹے سکے کے سائز کی ہے جسے کسی بھی جاندار کے دماغ میں فٹ کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی جاندار کے دماغ میں فٹ کر کے اس کمپیوٹر چپ مو وائرسلیس سسٹم کی بنیاد پر کسی بھی کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کے ساتھ کونیکٹ کیا جا سکتا ہے۔ 

کمپنی نے دعوی کیا ہے کہ اس کمپیوٹر چپ کو دماغ میں فٹ کرنے سے انسانی خیالات ریکارڈ ہو سکیں گے جنہیں کسی بھی وقت کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کے زریعے ری پلے کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ایسے افراد کو کمپیوٹر یا فون چلانے میں مدد دینا ہے جو کسی دماغی نقص، ریڈھ کی ہڈی کی انجری یا کسی قسم کے پیدائشی نقائص سے متاثر ہیں تا کہ وہ دماغ کی مدد سے کمپیوٹر یا اسمارٹ فون چلا سکیں۔ 

یہ بھی پڑھیں:  جب تک عمران خان قوم سے معافی نہیں مانگتے، مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیر اعظم شہباز شریف

کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے زریعے انسان کو مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجینس کے ساتھ بھی منسلک کیا جا سکے گا۔ 

بلال رشید

بلال رشید

بلال رشید ایک شہری امور اور سیاسی تجزیہ کار ہیں جو مقامی طرزِ حکمرانی اور شہری ترقی کے معاملات پر تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں شہروں کی منصوبہ بندی، بلدیاتی سیاست اور عوامی مفاد سے متعلق موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ خبریں

پی پی ایس سی بھرتیاں پنجاب

پنجاب پبلک سروس کمیشن کا صوبے بھر میں ہزاروں سرکاری ملازمتوں کا اعلان

ستمبر 18, 2026
ایبٹ آباد بورڈ رجسٹریشن قوانین

ایبٹ آباد بورڈ کا طلبہ کے لیے نئے رجسٹریشن قوانین کا باقاعدہ نوٹس جاری

ستمبر 18, 2026
سوشل میڈیا عمر کی حد

پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر مقرر کرنے کا فیصلہ

ستمبر 18, 2026
جی ایس پی پلس ریویو پاکستان

پاکستان کا یورپی یونین کے  پانچویں ششماہی جائزے کے عمل کو کامیابی سے مکمل کرنے کا بریک تھرو

ستمبر 18, 2026
ڈیپ فیک ویڈیوز اے آئی ماڈل

دبئی کا سائبر سیکیورٹی میں انقلابی اقدام، جعلی ویڈیوز پکڑنے کے لیے دنیا کا پہلا اے آئی ماڈل لائیو

ستمبر 18, 2026
پاک برطانیہ سفارتی تعلقات

پاکستان اور برطانیہ کے مابین اسٹریٹجک کوریڈورز اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کا فیصلہ

ستمبر 18, 2026

اردو خبر ویب سائٹ عوام کے لئے مقامی اور ٹرینڈنگ خبروں کو شیئر کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہاں آپ کیلئے تازہ ترین خبریں ، آراء ، شہ سرخیاں ، کہانیاں ، رجحانات اور بہت کچھ ہے۔ قومی واقعات اور تازہ ترین معلومات کے لئے سائٹ کو براؤز کریں

ہم سے رابطہ کریں
سائٹ کا نقشہ

  ہمارے بارے میں    |    پرائیویسی پالیسی    |    سروس کی شرائط

پی پی ایس سی بھرتیاں پنجاب

پنجاب پبلک سروس کمیشن کا صوبے بھر میں ہزاروں سرکاری ملازمتوں کا اعلان

ستمبر 18, 2026
ایبٹ آباد بورڈ رجسٹریشن قوانین

ایبٹ آباد بورڈ کا طلبہ کے لیے نئے رجسٹریشن قوانین کا باقاعدہ نوٹس جاری

ستمبر 18, 2026
سوشل میڈیا عمر کی حد

پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر مقرر کرنے کا فیصلہ

ستمبر 18, 2026

ہمارے ساتھ رہئے

Blogger-b Quora Tiktok Medium Newspaper Instagram Youtube Facebook X Twitter Users

Add New Playlist

No Result
View All Result
  • Home

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.