جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی واقعے کا نوٹس لے لیا، انکوائری کا حکم

منگل کے روز فوج کے میڈیا ونگ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حالیہ “کراچی واقعے” کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈر کراچی کور کو ہدایت کی ہے کہ وہ حقائق کا تعین کرنے کے لئے حالات کا فوری طور پر جائزہ لیں اور جلد از جلد رپورٹ کریں۔

زرائع کے مطابق  آئی ایس پی آر کا بیان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کرنے کے چند لمحوں بعد سامنے آیا ہے اور جنرل باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹلیجنس لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے مسلم لیگ ن کے رہنما ریٹائرڈ کیپٹن کے متعلق معاملات کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔ 

مزید پڑھئے | عاصم سلیم باجوہ کا استعفی وزیر اعظم نے قبول نہیں کیا، کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی

کیپٹن صفدر کے خلاف پولیس شکایت درج کرنے کے لئے پولیس پر دباؤ ڈالا جانے کی خبروں سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ میں ہر پولیس افسر ، اسٹیشن ہاؤس آفیسر سے لے کر سینئر پولیس افسران تک ہر کوئی حیرت زدہ تھا کہ اتوار کی رات 2 بجے آئی جی سندھ مشتاق مہر کے دفتر کو گھیرے میں کس نے لیا تھا؟  وہ دو افراد کون تھے جو رات 2 بجے آئی جی کے گھر کے اندر چلے گئے اور صبح کے 4 بجے ہمارے آئی جی کو کہاں لے جایا گیا۔ 

بلاول بھٹو نے جنرل باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل حمید سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اداروں کی تحقیقات کریں اور معلوم کریں کہ ان کے لوگ کیسے صوبے میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قومی سلامتی کے معاملات اور صوبے کے امن و امان کے امور پر توجہ دینی چاہئے۔ ہمارے شہری اداروں اور ان اداروں کو سندھ میں قانون نافذ کرنے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پولیس کے معاملات میں مداخلت ناقابل برداشت ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ میں سخت الفاظ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ بعد ازاں میڈیا سیل بلاول ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنرل باجوہ اور بلاول بھٹو کی کراچی واقعے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ٹیلیفون پر بات ہوئی ہے۔

 بیان کے مطابق ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کراچی واقعے کا فوری نوٹس لینے اور واقعے پر شفاف تحقیقات کروانے کی یقین دہانی پر آرمی چیف سے کا شکریہ ادا کیا۔

آرمی چیف کا یہ ایکشن ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا جب کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر سمیت سندھ پولیس کے متعدد اعلی افسران نے پولیس فورس کی بے حرمتی کا حوالہ دیتے ہوئے چھٹی پر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

نجی نیوز کے نمائندے کے مطابق 12 تا 13 پولیس افسران نے چھٹی کے لئے درخواستیں جمع کروائیں۔ اے آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب کے دستخط شدہ درخواست ، جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے ، اس میں میں لکھا ہے کہ وہ چھٹی پر جانا چاہتے ہیں کیونکہ پولیس کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سندھ پولیس کی صفوں میں تفریق پیدا ہو گی۔

شئر کریں

جاویریہ حارث

جاویریہ حارث اردو خبر میں پاکستان میں مقیم مصنف اور سابق ایڈیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *